.

ویزا؟ آسٹریلوی کمانڈوزعراق نہیں پہنچ سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلوی کمانڈوز بغداد کی جانب سے ویزوں کے اجراء میں تاخیرکی وجہ سے دولت اسلامی (داعش) کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے کے لیے ابھی تک عراق نہیں پہنچ سکے ہیں۔

آسٹریلوی اخبار سڈنی مارننگ ہیرالڈ نے اپنی جمعرات کی اشاعت میں لکھا ہے کہ قریباً دوسو خصوصی دستے اس وقت خلیج ہی میں موجود ہیں اور عراق میں تعیناتی کے منتظر ہیں لیکن عراقی حکومت کی سستی اور کاہلی کی وجہ سے وہ اپنی مفوضہ ذمے داریوں کو نبھانے کے لیے نہیں پہنچ سکے ہیں۔

آسٹریلوی وزیرخارجہ جولی بشپ نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے اور اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا فوجی اس وقت عراق میں موجود ہیں۔تاہم بغداد کی جانب سے آسٹریلوی حکام کو یہ بتایا گیا ہے کہ کمانڈوز کے ویزوں کے اجراء میں مزید ایک یا دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔

عراقی حکومت کی جانب سے آسٹریلوی کمانڈوز کو ویزوں کے اجراء میں تاخیر اس امر کی مظہر ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر غیرملکی فوجیوں کو تعیناتی کی اجازت دینے میں پس وپیش سے کام لے رہی ہے اور ایسا وہ سیاسی محرکات کی بنا پر کررہی ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے ستمبر میں خطے میں اپنے فوجی بھیجنے کا اعلان کیا تھا اور داعش کے خلاف امریکا کی قیادت میں اتحاد میں شامل کسی ملک کی جانب سے یہ پہلی پیش کش تھی۔

عین اُس وقت عراقی وزیرخارجہ ابراہیم الجعفری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم ملک میں غیرملکی فوجی اڈوں کی موجودگی اور غیرملکی فوجیوں کی تعیناتی کے خلاف ہیں کیونکہ اس سے عراقی آبادی میں تشویش پیدا ہوسکتی ہے۔تاہم آسٹریلوی کمانڈوز عراقی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور ان کی معاونت کے لیے آرہے ہیں۔