.

کارٹونسٹ پر اسرائیلی وزیر اعظم کی شہرت خراب کرنے کا الزام

یاہو کی پالیسیاں اسرائیل مخالف نائن الیون کا سبب بتائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی اخبار ہیرٹز میں شائع کیے گئے اس کارٹون کو سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو نائن الیون کے انداز میں امریکی ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر لوگوں نے اسرائیل کے امیج کو موضوع بنانے کارٹونسٹ پر سخت تنقید شروع کر دی ہے۔ کارٹونسٹ کی طرف سے اس خاکہ آرائی میں بنجمن نیتن یاہو کو ورلڈ ٹریڈ تاور سے جہاز ٹکراتے دکھانے پر برا بھلا کہا جا رہا ہے۔

کارٹونسٹ آموس بائیڈر مین نے اپنے اس کارٹون کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے '' میں اس طرح امریکا اسرائیل تعلقات کو بحرانی صورتحال سے دوچار کرنے کی یاہو کی پالیسیوں کو ہدف بنانا چاہت اتھا۔ کیونکہ ان پالیسیوں کی وجہ سے اسرائیل امریکا تعلقات ںائن الیون والی بحرانی صورتحال میں داخل ہو گئے ہیں۔ ''

کارٹونسٹ کا کہنا ہے اس کارٹون کا پیغام بھی یہی ہے کہ نیتن یاہو اسرائیل کے امریکا کے ساتھ معاہدات کو تباہ کرنا چاہتے ہیں جوکہ اسرائیل کے لیے نائن الیون سے کم نہ ہو گا۔

آموس بائیڈر مین نے مزید کہا ''اس طریقے سے انہیں متوجہ کرنا چاہتا تھا۔ وزیر اعظم کو علم ہونا چاہیے کہ امریکا تذویراتی حوالے سے اسرائیل کے لیے اہم ترین اثاثہ ہے۔''

اس بارے میں ایک اسرائیلی سفارتکار پال ہرشون نے کہا '' میری عادت نہیں ہے کہ میں میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناوں لیکن ہیرٹز ان دنوں گٹر پریس والا کام کر رہا ہے۔''

شہرت کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سرگرم گروپ جو کہ بنیادی طور پر یہود مخالفین کا توڑ کرتا ہے نے یاہو کے بارے میں ایسا کارٹون بنانے پر کارٹونسٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معافی مانگے۔
واضح رہے اسرائیل میں ان دنوں میڈیا کے خلاف حکومتی سطح کے علاوہ انتہا پسند یہودیوں کی طرف سے بھی قدغنوں کے بڑھنے کا ماحول بن رہا ہے۔ جس سے آزادی اظہار مزید مشکلات سے دوچار ہوگی۔