.

مصر، مردوں کی باہمی شادی پر آٹھ افراد جیل پہنچ گئے

دریائے نیل میں شادی رچانے کی وڈیو فیس بک پر آ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی عدالت نے آتھ افراد کو تین سال کے لیے جیل بھیج دیا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ آٹھوں مرد ہم جنس پرست ہیںاور انہوں نے دو مردوں کی باہمی شادی میں شرکت کی تھی۔

مصر میں ہم جنس پرستی پر قانونی طور کوئی متعین اور صریح پابندی نہیں ہے، البتہ اس فعل پر سزا دی جاتی ہے کہ اسلام کے منافی ہے۔ افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے دو ساتھی مردوں کی شادی میں شرکت کی اور بعد ازاں اس کی وڈیو عام کر کے اخلاق عامہ کو نقصان پہنچایا ہے۔

ویڈیو جو کہ دریائے نیل میں ایک کشتی پر بنائی گئی ہے اس میں دکھایا گیا ہے کہ ان مردوں نے کشتی پر سواری کے دوران ایک دوسرے کو شادی کی رسمی انگوٹھی پہنائی ، بوس و کنار کیا اور کیک کاٹا۔ یہ ویڈیو فیس بک کے ذریعے عام ہو گئی۔

اگرچہ میڈیکل رپورٹس سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ ان افراد نے حال میں یا اس پہلے کبھی ہم جنسی کی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود پراسیکیوٹر کے مطابق ان کی ویڈیو میں دکھنے والی سرگرمی سے عام لوگوں میں غلط کاری کا فروغ ہو سکتا ہے۔

ایک ملزم نے اس سے پہلے ایک ٹاک شو میں بتایا تھا کہ وڈیو ایک سالگرہ پارٹی کے دوران بنائی گئی تھی۔ مقدمے کی گیارہ اکتوبر کو سماعت کے موقع پرفرینزک ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے ان سب کو معصوم قرار دیا تھا۔ \

ترجمان کے مطابق'' تمام تر کیس کمزور بنیادوں پر بنایا گیا ہے، نہ پولیس نے انہیں رنگے ہاتھوں گرفتار کیا نہ کوئی چیز ثابت ہو سکی ۔ ہیومن رائٹس واچ نے ان آٹھوں مصریوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔''