.

داعش نے مخالف عراقی قبیلے کے 85 افراد قتل کردئیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم دولت اسلامی ’’داعش‘‘ نے عراق میں اپنے ایک مخالف قبیلے البونمبر کے خلاف دو الگ الگ کارروائیوں میں کم سے کم 85 افراد ہلاک اور 75 یرغمال بنا لیے ہیں۔

الونمر قبیلے کے ایک سرکردہ رہ نما الشیخ نعیم الکعود نے خبر رساں ادارے’’رائیٹرز‘‘ کو بتایا کہ داعش کے عسکریت پسندوں نے جمعہ اور ہفتے کے روز دو الگ الگ واقعات میں قبیلے کے کم سے کم پچاسی افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک کارروائی میں 50 قبائیلی کارکنوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ داعش کے ایک دوسرے حملے میں البونمر قبیلے کے 35 افراد کو قتل کیا گیا جنہیں اجتماعی قبروں میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔

ادھر الانبار کے حدیثہ شہر سے العربیہ نیوز نے پولیس ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ داعشی انتہا پسندوں نے البونمر قبیلے سے تعلق رکھنے والے 75 افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش کے جنگجوئوں نے البونمر قبیلے کے لوگوں کو اس وقت یرغمال بنایا جب وہ اپنے گھر بار چھوڑ کر صحراء کی طرف نقل مکانی کر رہے تھے۔ داعشی جنگجوئوں نے ان کا تعاقب کیا اور راس الماء کے مقام پر انہں گھیر لیا اور ان میں سے 75 افراد کو پکڑ کر ساتھ لے گیے۔

داعش نے مخالف قبیلے کے خلاف یہ خونی کارروائی ایک ایسے وقت میں کی ہے جب دوسری جانب عراقی حکومت مسلسل یہ اعلان کر رہی ہے کہ وہ دنوں کے اندر اندر داعش کو ملک سے نکال باہر کرے گی۔

عراقی وزیر دفاع خالد العبیدی نے کہا ہے کہ داعش کے خلاف ان کی جنگ پوری قوت سے جاری ہے اور ایک ماہ کے اندر اندر الانبار کو داعش کے عسکریت پسندوں سے خالی کرا لیا جائے گا۔

ضلع الانبارکے دورے کے دوران عین الاسد فوجی اڈے پر فوجی جوانوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ الانبار سے عسکریت پسندوں کا خاتمہ اب بس چند دنوں کی بات ہے۔ ایک ماہ کے اندر اندر ہم الانبار سمیت کئی دوسرے شہروں کو بھی داعش سے پاک کر لیں گے۔

ادھر ضلع صلاح الدین کے دفاع لحاظ سے اہم شہر بیجی پر عراقی فورسز نے ایک مرتبہ پھر عسکریت پسندوں کے خلاف حملہ کرکے وسطی شہر سے عسکریت پسندوں کو نکال باہر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ بیجی پر سیکیورٹی فورسز نے جمعہ کو دن کے وقت عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر حملے کیے۔ کارروائی میں ایک بڑی تیل ریفائنری کے قریب واقع التامیم اور صنعتی کالونیوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا گیا ہے۔