بن غازی بندرگاہ خالی کردی جائے: لیبی فوج

فریقین کے درمیان لڑائی سے کم از کم 230 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کی فوج نے بن غازی کی بندرگاہ پر مشتمل وسطی ضلع کے رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ علاقے کو خالی کردیں کیوںکہ لیبی فوج ملک کے دوسرے بڑے شہر میں اسلام پسند جنگجوئوں کے خلاف آپریشن کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔

سابق لیبی صدر معمر قذافی کی اقتدار سے بے دخلی کے تین سال بعد بھی بحران میں پھنسے لیبیا کے ایک سابق فوجی جنرل حفتر کی وفادار فوج کی جانب سے اسلام پسند مسلح گروپوں کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 230 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

لیبی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے ماہ اگست میں اسلام پسندوں کے ہاتھوں چھن جانے والی متعدد بیرکوں کو واپس قبضے میں لے لیا ہے جبکہ اس مشرقی شہر میں بھی مختلف مقامات پر لڑائی جاری ہے۔

لیبی چیف آف سٹاف کے ترجمان احمد المسماری کا کہنا ہے "چیف آف سٹاف نے تمام رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ پیر کی دوپہر بارہ بجے تک علاقے کو خالی کردیں۔

یہ ضلع شہر کا سب سے کمرشل علاقہ ہے اور گندم اور پٹرول کی درآمد کے لئے استعمال ہونیوالی بندرگاہ کا بھی حامل ہے۔

انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں مگر فوج نے اس سے پہلے کہا تھا کہ انتہاپسند گروپ انصار الشریعہ کے ممبران نے دوسرے اضلاع پر لیبی فوج کے قبضے کے بعد یہ علاقہ خالی کردیا تھا۔

اس کے علاوہ ہلال احمر نے شہر کے سب سے بڑے بچوں کی پیدائش کے ہسپتال کو خالی کروادیا۔ اس ہسپتال پر اس سے پہلے کئی بار حملہ ہوچکا ہے اور اس کو کسی اور جگہ منتقل کیا جارہا ہے۔

چھ اور افراد بھی اتوار کے روز جانیں گنوا بیٹھے جس سے ہلاک افراد کی کل تعداد بڑھ کر 230 تک جا پہنچی۔

لیبیا حریف قبائل اور سیاسی گروپوں کی دو حکومتوں کے درمیان تقسیم کا شکار ہے جو کہ اپنی حکومت کو قانونی شکل دینے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ان تمام تنازعوں کے درمیان بین الاقوامی میدان میں لیبیا کے وزیر اعظم مانے جانے والے عبداللہ الثنی کو مشرقی علاقوں میں جانے پر مجبور کردیا ہے۔

بن غازی اور لیبیا کے دوسرے علاقوں میں صورتحال انتہائی غیر یقینی رہی ہے کیوںکہ حکومتی ادارے مختلف ملیشیائوں کو قابو میں کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں