حزب اللہ کے سربراہ اپنے حامیوں میں نمودار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان کی طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ سوموار کی شب دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے میں نمودار ہوئے ہیں اور انھوں نے یوم عاشور کی تقریبات اور جلوسوں سے قبل اپنے ہزاروں حامیوں کے سامنے تقریر کی ہے۔

حزب اللہ کے ملکیتی ٹیلی ویژن چینل المنار پر شیخ حسن نصراللہ کی ویڈیو فوٹیج براہ راست نشر کی گئی ہے۔وہ جونہی سیاہ پگڑے پہنے اسٹیج پر نمودار ہوئے تو ان کے حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور نعرے بازی کی کیونکہ وہ حسن نصراللہ کی اس طرح عوام میں نموداری کی توقع نہیں کررہے تھے۔

اس موقع پر انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ''ہمیں کسی دھمکی،کسی خطرے اور کسی چیلنج کا کوئی خوف نہیں ہے''۔انھوں نے اہل تشیع پر زوردیا کہ وہ یوم عاشور کے موقع پر ماتمی جلوسوں میں بڑی تعداد میں شرکت کریں۔حزب اللہ کے زیراہتمام منگل کو بیروت کے جنوبی علاقے میں ایک بڑا ماتمی جلوس نکالا جارہا ہے اور حسن نصراللہ اس ریلی سے ایک مرتبہ پھر خطاب کریں گے۔

شیعہ ملیشیا کے سربراہ بالعموم اپنے حامیوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے مخاطب ہوتے ہیں اور وہ اسرائیل کی جانب سے قاتلانہ حملے کے خوف سے براہ راست عوام میں نہیں آتے ہیں۔وہ اس سے پہلے آخری مرتبہ جولائی میں اپنے مداحوں کے درمیان دیکھے گئے تھے۔

حزب اللہ کے ہزاروں جنگجو اس وقت شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے ساتھ مل کر باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں۔ حسن نصراللہ نے گذشتہ سال یوم عاشور کے موقع پر کہا تھا کہ ان کی تنظیم کے جنگجو اس وقت تک شام میں موجود رہیں گے جب تک صدر بشارالاسد کی فورسز کو باغیوں کے خلاف لڑائی میں ان کی خدمات درکار ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل سنی اور شیعہ مسلمانوں کو آپس میں لڑتے اور ایک دوسرے کو قتل کرتے ہوئے دیکھ کر خوش ہورہا ہے۔انھوں نے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے شرطیں باندھنے والے عرب ممالک کو بھی خبردار کیا تھا کہ وہ آنے والے وقت میں غلط ثابت ہوں گے۔

واضح رہے کہ حزب اللہ کی شام میں عسکری مداخلت کی وجہ سے لبنان میں سخت کشیدگی پائی جارہی ہے کیونکہ ملک کے اہلِ سنت شام میں باغی جنگجوؤں کی حمایت کررہے ہیں جبکہ شیعہ تنظیم اسد حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان اس آویزش کے ملکی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں اور سیاسی تناؤ کے اس ماحول میں مئی سے اب تک لبنان کے نئے صدر کا انتخاب عمل میں نہیں لایا جا سکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں