.

جیل میں پیدا ہونے والی خاتون ڈاکٹر شام میں گرفتار

ڈاکٹر بھجت کا خاندان حافظ الاسد کے دور سے زیر عتاب ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انٹیلی جنس حکام نے ایک لیڈی ڈاکٹر ماریا بھجت شعبو کو انسانی حقوق کے مندوب اور ایک صحافی سمیت متعدد افراد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی’’سراج پریس‘‘ کے مطابق ڈاکٹر ماریا بھجت اور دیگر افراد لبنان میں ایک تربیتی ورکشاپ میں شرکت کے بعد شام واپس لوٹ رہے تھے کہ انہیں لبنانی سرحد کے قریب سے حراست میں لے لیا گیا۔

ادھر شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والی شامی آبزرویٹری نے بتایا ہے کہ لبنانی سرحد کے قریب سے ڈاکٹر ماریا اور ان کے قافلے میں شامل متعدد دیگر افراد کو نہایت ظالمانہ انداز میں حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر ماریا بھجت شعبو کا خاندان شام میں حکمران بشار الاسد فیملی کے استبداد کا مسلسل شکار چلا آ رہا ہے۔ ڈاکٹر ماریا کے والد ڈاکٹر بھجت شعبو دس سال تک صدر بشار الاسد کے والد حافظ الاسد کے دور میں قید رہے۔ ان کے ایک دوسرے عزیز اور دانشور راتب شعبو نے 16سال اور بائیں بازو کے سیاسی نظریات رکھنے والی ڈاکٹر ماریا کی والدہ رنا محفوظ نے چار سال صدر اسد کے والد کے دور میں قید کاٹی۔ ماریا بھجت کی پیدائش جیل ہی میں ہی میں ہوئی۔ ڈاکٹر رنا محفوظ خود بھی ایک میڈیکل ڈاکٹر تھیں۔

ماریا کے والدین کو شام میں سوشلسٹ لیبر پارٹی سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پیدائش کے بعد ڈیڑھ سال تک ماریا کی پرورش بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوئی۔ ڈیڑھ سال بعد ماریا کو تو جیل سے باہر بھیج دیا گیا تاہم اس کی والدہ نے چار سال قید پوری کی۔