.

غزہ میں ہزاروں سرکاری ملازمین کی ہڑتال

قومی حکومت کا حماس کے سکیورٹی اہلکاروں کو واجبات کی ادائی سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی میں قریباً بیس ہزار سرکاری ملازمین نے فلسطین کی قومی اتحاد کی حکومت کی جانب سے تن خواہوں کی عدم ادائی کے خلاف ہڑتال کردی ہے۔

غزہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سرکاری ملازمین نے منگل کے روز غزہ میں حماس کے زیرانتظام تمام وزارتوں اور دوسرے اداروں کے دروازے بند کردیے ہیں اور صرف تعلیمی ادارے کھلے ہوئے ہیں۔

غزہ کی پٹی میں حماس نے 2007ء میں اپنی حکومت کے قیام کے بعد چالیس ہزار سے زیادہ ملازمین اور سکیورٹی اہلکاروں کو بھرتی کیا تھا۔ صدر محمود عباس کی قیادت میں فلسطینی اتھارٹی نے ابتدائی طور پر ان ملازمین کو تن خواہیں دینے سے معذرت کر لی تھی لیکن اس نے گذشتہ بدھ کو قریباً چوبیس ہزار سول ملازمین کو تن خواہیں ادا کر دی تھیں لیکن سکیورٹی سروسز میں خدمات انجام دینے والے قریباً سولہ ہزار اہلکاروں کو ابھی تک تن خواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں۔

حماس کی حکومت غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ حالیہ جنگ کے بعد مالی بحران کا شکار ہو گئی تھی جس کے بعد یہ ملازمین گذشتہ کئی ماہ سے تن خواہوں کے بغیر ہی کام کررہے تھے اور اب وہ سنگین مالی مسائل کا شکار ہوچکے ہیں۔

جون میں غزہ کی پٹی اور غرب اردن میں حماس ،فتح اور دوسری جماعتوں کے اتفاق رائے سے قومی اتحاد کی حکومت قائم کی گئی تھی لیکن وزیراعظم رامی حمداللہ کی قیادت میں اس حکومت نے حماس دور کے ان ملازمین کو تن خواہیں ادا کرنے سے معذرت کر لی تھی۔

حماس نے ٹیکنیکل اعتبار سے اقتدار تو قومی حکومت کے حوالے کردیا تھا لیکن غزہ پر بدستور اسی کا کنٹرول قائم ہے اوراس کے فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے ساتھ غزہ کے ملازمین کو تن خواہیں ادا کرنے کے معاملے پر اختلافات پائے جاتے ہیں اور قومی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ان ملازمین کو واجبات ادا کرنے کے لیے رقوم نہیں ہیں۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں گذشتہ ماہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے منعقدہ ڈونرز کانفرنس میں مختلف ممالک نے پانچ ارب چالیس کروڑ ڈالرز کی امداد دینے کے وعدے کیے تھے۔یہ رقوم اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی میں مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ کے دوران تباہ شدہ ڈھانچے اور ہزاروں مکانوں کی تعمیرنو پر خرچ کی جائیں گی۔