.

مصر: عسکری تنظیم انصار بیت المقدس داعش کے زیر اثر ہو گئی

انصار کے عسکریت پسندوں کی بڑی تعداد داعش کی مطیع ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں عسکری کارروائیوں میں ملوث رہنے والی انصار بیت المقدس میں شامل عسکریت پسندوں کی بڑی تعداد نے داعش کی اطاعت قبول کر لی ہے۔

اس سلسلے میں انصار بیت المقدس کی طرف سے باضابطہ طور پر ایک بیان بھی جاری کیا گیا ہے ۔ قبل ازیں انصار بیت القدس نے عالمی خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا تھا کہ وہ داعش سے متاثر ہے اور اس سے رہنمائی بھی حاصل کرتی ہے۔

واضح رہے القاعدہ سے متاثرہ داعش نے عراق اور شام کے کافی سارے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور مشرق وسطی کے نقشے کو نئے سرے سے ترتیب دینا چاہتی ہے۔

امریکا نے ایک عالمی اتحاد تشکیل دے کر داعش کے خلاف عراق اور شام میں فضائی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ لیکن داعش کی سرگرمیوں کو روک لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

انصار بیت المقدس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے '' اللہ پر ایمان کے بعد ہم ہے اللہ کے وفادار اور عراق وشام میں خلیفتہ المسلمین ابو بکر البغدادی کی بیعت کا حلف اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی جولائی 2013 میں برطرفی کے بعد سے مصر کو جزیرہ نما سیناء میں بڑھی ہوئی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ ان کارروائیوں میں سے متعدد کی ذمہ داری انصار بیت المقدس نے قبول کی ہے۔

مصری حکومت نے ماہ اکتوبر کے اواخر میں سیناء اور اس سے ملحق علاقوں میں تین ماہ کے لیے اس وقت ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی جب سیناء میں ایک ہی کارروائی کے دوران 33 سکیورٹی اہلکار ہلاک کر دیے گئے۔