.

مقبوضہ القدس:یہودیوں کے لیے 500 مکانوں کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے پانچ سو نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔

اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کے خلاف کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم اب امن ( پیس نو) نے سوموار کو اطلاع دی ہے کہ صہیونی وزارت داخلہ نے مشرقی القدس میں واقع یہودی آبادکاروں کی بستی رامات شلومو میں ان نئے مکانوں کی تعمیر کا عمل آگے بڑھانے کی منظوری دی ہے۔

اب امن کی ترجمان حجیت عفران نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رامات شلومو میں ان نئے مکانوں کی تعمیر کا فیصلہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے گذشتہ ہفتے ایک اعلان کے بعد کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں تعمیرات کا عمل تیز کیا جائے گا۔

نیتن یاہو کے دفتر نے 27 اکتوبر کو یہودی آبادکاروں کے لیے ایک ہزار نئے مکانوں کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا۔ان میں سے چھے سو سے زیادہ رامات شلومو اور چار سو سے زیادہ ہارحوما میں تعمیر کیے جائیں گے۔

امریکا نے اسرائیل کی جانب سے یہودی آبادکاروں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔وائٹ ہاؤس نے گذشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ یہودی آبادکاری کا عمل جاری رہنے کی صورت میں اسرائیل اپنے قریبی اتحادیوں سے دور ہوجائے گا۔

تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن صائب عریقات نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں اسرائیل کے اس منصوبے کی شدید مذمت کی تھی۔انھوں نے کہا کہ ریاست فلسطین کے دارالحکومت میں یہودی آباد کاری بین الاقوامی قانون کے تحت ایک جُرم ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل مسجد الاقصیٰ کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے بھی اقدامات کررہا ہے اور ریاست کے حامی دہشت گردوں نے سلوان کے علاقے میں فلسطینیوں کے پنتیس مکانوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس سے فلسطینیوں کو جبری بے دخل کرنے کے لیے اقدامات تیز کردیے ہیں۔اس صورت حال میں عالمی برادری کو فیصلہ کن اقدام کرنا چاہیے تاکہ تنازعے کے دوریاستی حل کو بدستور محفوظ رکھا جاسکے۔