انتہا پسندی اور سیاسی اسلام کے خلاف عرب فوج پر غور

مصر، سعودی عرب، امارات اور کویت کے حکام نے سر جوڑ لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت نے لیبیا اور شام عراق میں اسلامی انتہا پسندوں اور سیاسی اعتبار سے اسلام کے غلبے کے حامیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ فورس کی تشکیل پر سنجیدہ غور شروع کر دیا ہے۔

اس مشترکہ فوج کا دائرہ کار مشرق وسطی کے حوالے سے ہو گا ۔ نیز لیبیا میں انتہا پسندوں کے قبضے کا بھی توڑ کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی اس کا مقصد ایران کی فوجی طاقت کو بیلنس کرنے کے لیے ایک جوابی عرب فوجی طاقت کا اظہار بھی ہو گا۔

مصر کے فوجی حکام کے مطابق اس وقت بھی دو ملک لیبیا اور یمن ایسے چیلنجوں میں گھرے ہوئے ہیں جن کا توڑ اس مجوزہ مشترکہ فوج کے ذمہ ہو گا۔ تاہم عراق اور شام میں مداخلت اس مشترکہ فوج کے مقاصد میں شامل نہیں ہو گی۔

واضح رہے لیبیا میں اسلامی انتہا پسندوں نے دارالحکومت طرابلس اور دوسرے بڑے شہر بنغازی پر پچھلے دوماہ سے قبضہ کر رکھا ہے، اس کے نتیجہ میں مغربی اور عرب دنیا کی تسلیم کردہ حکومت کو مصر کے ساتھ سرحدی علاقے میں پناہ لینا پڑ چکی ہے، جبکہ یمن میں مشتبہ ایرانی حمایت کے حامل مسلح حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعاء میں عملا دارالحکومت کو قبضے میں لے کر کاروبار حکومت کو مفلوج کر رکھا ہے۔ یمن میں القاعدہ کا چیلنج بھی کا فی پرانا ہے جس پر حکومت ابھی تک قابو نہیں پا سکی ہے۔

اس مشترکہ فوج کے لیے قطعیت کے ساتھ جن حوالوں پر سیر حاصل بات چیت ہو چکی ہے ان میں 2011 کی عرب بہاریہ کے بعد عرب خطے میں ایک بحرانی صورت حال ہے۔ جس کا بڑھتا ہوا اظہار داعش اور سیاسی اسلام کے غلبے کے حوالے سے عرب دنیا میں ایک بڑے خطرے کے طور پر ہوا ہے۔

اس تناظر میں امریکی اتحادی عرب ممالک ایک ایسی مشترکہ فوج کے خدوخال پر غور کر رہے ہیں جو داعش کے خلاف امریکی جنگی مہم کے بعد درپیش ہو گا۔

امریکا اور اس کے مغربی و عرب اتحادی ماہ ستمبر سے شام میں داعش کے خاتمہ کے لیے اور امریکا ماہ اگست سے داعش کے عراق سے خاتمہ کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مصری حکام نے مشترکہ فوج کی تشکیل کے لیے اب تک ہونے والے تبادلہ خیال کے حوالے سے بتایا ''عراق اور شام میں کارروائی کرنا اس فوج کا ہدف نہیں ہو گا بلکہ اس کی تشکیل عراق اور شام سے ماورا ہو گی۔''

یہ بھی معلوم ہوا ہے اس فوج کی تیاری کے منصوبے میں رنگ بھرنے کے لیے مصر کے تین اہم فوجی عہدیدار متعلقہ عرب حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کر چکے ہیں، جبکہ مصر کے چوتھے اعلی فوجی عہدے دار نے اس کی تصدیق کی ہے۔

ان ذرائع کے مطابق مصری حکومت ان دنوں اس بارے میں رابطے کر رہی ہے کہ لیبیا کی صورت حال سے کیسے نمٹا جائے۔ کیونکہ لیبیا کی صورت حال کے مصر پر بھی منفی اثرات براہ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اب تک ہونے والے مذاکرات کا دوسرا اہم موضوع خطے میں انتہا پسندی سے ڈیل کرنا ہے۔

تاہم ان مصری حکام نے مذاکرات کا انکشاف کرنے کے ساتھ اپنے نام ظاہر نہ کرے کی درخواست کی۔ مصری حکام کے مطابق یہ بات کافی آگے بڑھ چکی ہے۔ البتہ فوج کی تعداد، مالی امور، فوج کے لیے فنڈز کی فراہمی اوراس مشترکہ فوج کے ہیڈکوارٹرز کے حوالے سے بات چیت ابھی جاری ہے۔

نیز یہ کہ اس کے آپریشنز کے لیے عرب لیگ اور اقوام متحدہ کا کور کیسے حاصل کیا جائے گا اس پر بھی غور جاری ہے۔ مصری ذمہ دار نے کہا ماضی میں ایک عرب فورس کی تشکیل کی جو بات ہوتی رہی ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔

اگر مشترکہ فورس پر کلی اتفاق نہیں بھی ہو پاتا تو مشترکہ نوعیت کی جنگی کارروائیاں اور متعین اہداف کے حصول کے لیے آپریشن کیے جاتے رہیں گے۔

ان حکام نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے دیرینہ موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ''وہ پہلےبھی کہہ چکے ہیں انتہا پسندوں کے خلاف صرف عراق ور شام میں نہیں متعدد دیگر جگہوں پربھی بیک وقت کارروائی ہونی چاہیے۔ ''

دوسری جانب مصری صدارتی محل کے ترجمان اعلی یوسف نے ایسی کسی فوج کی تشکیل کے امکان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ایسی کسی سریع الحرکت فوج کی تشیکل یا ہیڈکوارٹرز وغیرہ پر کوئی بات نہیں ہو رہی ہے، حکام کے درمیان معمول کی ملاقاتیں اور باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ''

مصر کے فوجی حکام نے اس مشترکہ فوج کے لیے امریکی منظوری کے بارے میں ایک سوال پر کہا '' اس بارے میں متعلقہ ممالک واضح نہیں ہیں کہ داعش کے عراق اور شام میں خطرے سے نمٹنے کے بعد انتہا پسندوں سے نمٹنے کے لیے امریکا کی حکمت عملی کیا ہو گی۔

خیال رہے اب تک عرب ممالک کے متعلقہ حکام کے درمیان اس موضوع پر مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ ان میں اعلی فوجی عہدے داروں کے علاوہ مذکورہ ممالک کے چیف آف سٹاف بھی شریک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں