حماس نے وین حملے کی ذمے داری قبول کر لی

فلسطینی ڈرائیور نے راہ گیروں پر وین چڑھادی ،ایک اسرائیلی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی جماعت حماس نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک فلسطینی ڈرائیور کی جانب سے اسرائیلی راہ گیروں پر وین چڑھنے کے واقعے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔اس فلسطینی ڈرائیور نے بدھ کے روز ایک منی ریلوے اسٹاپ پر کھڑے راہ گیروں پر اپنی وین چڑھادی ہے جس کے نتیجے میں ایک اسرائیلی ہلاک ہوگیا ہے۔

غزہ میں حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ وین حملہ مسجد الاقصیٰ کے خلاف صہیونی جرائم کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔وین کے ڈرائیور کو اسرائیلی پولیس اہلکاروں نے بعد میں گولی مار کر قتل کردیا ہے اور اس کی شناخت ابراہیم عکری کے نام سے کی گئی ہے۔وہ مقبوضہ مشرقی القدس کا رہنے والا تھا۔

مقتول عکری نے فیس بُک پر اپنا صفحہ بھی بنا رکھا تھا۔اس نے ایک ہفتہ قبل ایک یہودی ربی پر فلسطینی نوجوان کی فائرنگ کے واقعہ کی تعریف کی تھی۔یہ انتہا پسند یہودی آبادکار مسجد الاقصیٰ میں یہودیوں کو عبادت کی اجازت دینے کے لیے تحریک چلا رہا تھا۔

اسرائیلی پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق ڈرائیور نے اپنی سفید رنگ کی وین مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی آبادی والے علاقے میں ایک شاہراہ پر واقع کراسنگ میں اسرائیلی بارڈر پولیس کے تین اہلکاروں پر چڑھانے کی کوشش کی تھی اور اس کے بعد ریلوے اسٹاپ پر کھڑے لوگوں پر چڑھادی تھی۔جب اس کی وین وہاں پھنس گئی تو ا س نے وین سے اتر کر لوہے کے ایک پائپ کے ساتھ لوگوں کو مارنا شروع کردیا تھا۔اس دوران ایک بارڈر پولیس اہلکار نے اس فلسطینی کو گولی مار کر شہید کردیا تھا۔

مقبوضہ بیت المقدس میں گذشتہ دوہفتوں کے دوران ریلوے اسٹاپ پر کھڑے لوگوں پر گاڑی چڑھانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔اس سے پہلے اس سے پہلے اسی انداز میں ایک ڈرائیور نے ریلوے اسٹاپ پر کھڑے راہگیروں پر اپنی کار چڑھا دی تھی جس کے نتیجے میں نو افراد زخمی ہوگئے تھے اور ان میں سے ایک کم سن بچہ بعد میں دم توڑ گیا تھا۔تاہم اس واقعہ کی کسی نے ذمے داری قبول نہیں کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں