دھرنا ختم کرانے کے لئے اسرائیلی پولیس کی مسجد اقصی پر چڑھائی

متعدد افراد کا آنسو گیس کی شدت سے دم گھٹنے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مقبوضہ بیت المقدس میں انتہا پسند یہودی تنظیم 'جبل الھیکل' سے تعلق رکھنے والے دسیوں کارکنوں کی جانب سے قبلہ اول میں عبادت کی خاطر داخلے کی کوشش کے بعد علاقے کی صورتحال کشیدگی کا شکار ہو گئی ہے۔

مسجد اقصی کے شعبہ نگرانی کے سربراہ کے مطابق قابض اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصی پر مراکشی دروازے کی سمت سے حملہ کیا اور مسجد کے اندر موجود مسلمانوں کو منتشر کرنے کے لئے اندھا دھند آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔ پولیس نے مسجد میں موجود مسلمانوں کا محاصرہ کر لیا کیونکہ انتہا پسند یہودیوں نے بعد میں مسجد کے دروازے بند کر دیئے۔

القدس سے 'العربیہ' کی نامہ نگار نے اپنے مرسلے میں بتایا کہ پرانی میونسلیٹی کے علاقے میں اسرائیلی پولیس کی بڑی تعداد موجود تھی۔

یاد رہے کہ چند روز پہلے اسرائیل نے مسجد اقصی کو کچھ مدت کے لِئے مکمل طور پر بند کر دیا تھا، تاہم بعد میں فلسطین کے اندر اور عالم اسلام کے شدید احتجاج کے ہاتھوں مجبور ہو کر صہیونی حکام مسجد نماز ادائی کے لئے دوبارہ کھولنا پڑی۔ سنہ 67ء میں مسجد پر قبضے کے بعد سے یہ پہلی بار ہوا کہ مسجد کو کئی گھنٹوں تک نماز کے لئے بند کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں