ایران، شام میں نئی 'حزب اللہ' تشکیل دینے میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں بڑھتے ایرانی اثر رسوخ کے جلو میں ایک نئی خبر سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ تہران، دمشق میں ایک متوازی فوج تشکیل دینے کے لیے کوشاں ہے جو صدر بشارالاسد کی باغیوں کے سامنتے کمزور ہوتی سرکاری فوج کے ساتھ مل کر بغاوت دبانے کے لیے مسلح جدو جہد کر سکے گی۔

نیوز ویب پورٹل’’سراج پریس‘‘ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی گئی ہے کہ تہران سرکار شام میں صدر اسد کی حمایت میں لڑنے والے اہل تشیع مسلک کے تمام عسکری گروپوں کو ایک متحدہ فورس میں تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ایران کی کوشش ہے کہ شام میں الگ الگ ناموں کے ساتھ لڑنے والے شامی، افغان، ایرانی عسکری گروپ اور حزب اللہ ایک ہی متحدہ فوج کا حصہ بن جائیں جو صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے متوازی باغیوں کی سرکوبی کے لیے جنگ جاری رکھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ایرانی حکومت نے ایک اعلیٰ شخصیت کو دمشق اس مقصد کے لیے بھیجا ہے تاکہ وہ الگ الگ ناموں کے ساتھ جنگ میں شامل شیعہ عسکری گروپوں کو ایک کمان میں متحد کرنے کے لیے ان کی قیادت سے بات چیت کر سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شام میں متوازی فوج لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی طرز پر بنائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ خود حزب اللہ بھی اس متوقع غیر سرکاری عسکری اتحاد کا حصہ بن سکتی ہے۔ ایران نے شام میں متوازی فوج کی تشکیل کی کوششیں ایک ایسے وقت میں شروع کی ہیں جب صدر بشار الاسد نے اپنی فوج کی افرادی قوت کو بڑھانے کے لیے نئی بھرتیوں کے ساتھ ریزرو فوج سے اہلکاروں کی واپسی اور فوج کی لازمی سروس کی مدت مکمل ہونے کے بعد شہریوں کی فوجی خدمات ترک کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ موجودہ ہنگامی حالات میں کوئی شخص فوج سے واپس نہ جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں