.

عراقی قبائلیوں نے داعش سے کیسے جانیں بچائیں؟

داعشی جنگجوؤں کے ہاتھوں البونمر قبیلے کا سفاکانہ قتل عام جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمال مغربی صوبے الانبار میں سخت گیر اور سفاک جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کا اپنے مخالف قبائیلیوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے اور وہ انھیں چُن چُن کر قتل کر رہے ہیں لیکن ان کی اس سفاکیت میں بعض قبائلی اپنی جانیں بچانے میں کامیاب رہے ہیں۔

داعش نے گذشتہ ہفتے سے اپنے مخالف سنی قبیلے البونمر کے خلاف کارروائی شروع کررکھی ہے اور انھوں نے عراق میں سب سے بہادر اور جنگجو سمجھے جانے والے اس قبیلے کا وہ حشر کیا ہے کہ اس کے افراد کو یاتو موت کی ابدی نیند سلا دیا ہے یا پھر میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

البونمر قبیلےنے 2003ء میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے نتیجے میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد داعش کی پیش رو جنگجو تنظیم القاعدہ کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا تھا اور اس کو اپنے صوبے الانبار میں شکست فاش سے دوچار کیا تھا لیکن اس مرتبہ وہ عراقی فوج کی مدد کے باوجود داعش سے شکست سے دوچار ہوگئے ہیں اور اب اپنی جانیں بچانے کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔

البونمر قبیلے کے رکن محمد ہلال سمیت قریباً ایک سو افراد ایسے ہی لوگوں میں شامل تھے جو داعش کے جنگجوؤں کی سفاکیت سے بچنے کے لیے گھاس کے ایک ڈھیر میں جا چھپے تھے لیکن رات کے وقت داعش کے جنگجوؤں نے انھیں آ لیا اور اپنی کاروں کی ہیڈلائٹس سے ان کا پتا چلا لیا تھا۔

بس پھر کیا تھا۔پہلے تو جنگجو ان پر چلّائے کہ غداروں ہم جانتے ہیں تم ادھر ہو۔پھر انھوں نے ان پر فائر کھول دیا۔ان میں سے زیادہ تر مارے گئے،بعض کو قیدی بنا لیا گیا۔محمد ہلال کے بازو اور ٹانگ میں گولیاں لگی تھیں مگر اس کی جان بچ گئی تھی۔وہ ان لاشوں کے درمیان اپنی سانسوں کو روکے پڑا رہا تھا۔

اس دوران جنگجو ان کےدرمیان آئے تھے اور وہ زخمیوں کو تلاش کرکے انھیں تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے لیکن ہلال کی خوش قسمتی کہ اس پر جنگجوؤں کی نظر نہیں پڑی اور وہ بھی خود کو مردہ ظاہر کرتا رہا تھا۔پھر وہ موقع پا کر وہاں سے نکل جانے میں کامیاب ہوگیا۔اب وہ حدیثہ شہر میں مقیم ہے۔اس نے رائیٹرز کو ٹیلی فون کے ذریعے بتایا ہے کہ جنگجوؤں نے مردوں اور بچوں کی لاشوں کو سڑک کنارے ہی گڑھا کھود کر دفن کر دیا تھا۔

اس نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کی تلاش میں ہے لیکن ان میں سے کسی کا بھی فون نہیں مل رہا ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے البونمر قبیلے کے دوسرے افراد کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا ہے اور انھیں سیکڑوں کی تعداد میں قطاروں میں کھڑا کرکے گولیوں سے بھون دیا ہے۔بعض قبائلی ذرائع نے قبیلے کے پانچ سو چالیس افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جبکہ بیسیوں ابھی لاپتا ہیں۔

البونمر قبیلے کو داعش نے یہ سزا عراقی فوج کا ساتھ دینے اور اپنے خلاف لڑنے پر دی ہے لیکن عراقی حکومت اور فوج نے اس قبیلے کے ساتھ دغا کیا ہے اور اس کو بے یارومددگار چھوڑ کر عراقی فوجی ان کے علاقے سے چلے گئے تھے جبکہ قبائلی سرداروں کی بار بار کی اپیلوں کے باوجود انھیں اسلحہ یا کوئی اور مدد بھی مہیا نہیں کی گئی تھی۔

البونمر قبیلے کے گاؤں کے ایک مکین حاجی رضیف نے بتایا ہے کہ ''جس رات داعش کے جنگجو ان کے گاؤں میں داخل ہوئے تھے تو آرمی نے محاذ سے پسپائی اختیار کرلی تھی اور فوجیوں کو واپس بلا لیا گیا تھا۔اس کے بعد ہمارے پاس کوئی اسلحہ نہیں رہا تھا اور صرف گاؤں ہی کے جنگجو رہ گئے تھے۔اب ہتھیار ڈالنے کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا''۔

داعش نے اس گاؤں میں اپنے مخبر پھیلا دیے تھے اور پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا تھا۔اب جو کوئی بھی پیدل نکلتا اور اس کے بارے میں یہ پتا چل جاتا کہ اس نے بھی داعش کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا ہے تو اس کو قتل کردیا جاتا۔

حاجی رضیف اور چند ایک دیہاتی کپڑوں کے چند ایک جوڑوں کے ساتھ گاؤں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ان میں سے بہت سے قبائلیوں کو نزدیک واقع شہر ہیت تک پہنچنے کے لیے صحرا میں کئی کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑا تھا اور ان کے پاس کھانے کےلیے کھجوروں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ان میں سے جو لوگ اپنے ساتھ سونے کے زیورات اور نقدی رقم لے کر نکلے تھے،ان سے داعش کے جنگجوؤں نے چیک پوائنٹس پر یہ سب کچھ چھین لیا تھا۔

داعش کے ہاتھوں قبائلیوں کے اس سفاکانہ قتل عام کے بعد اب باقی سنی قبائل وزیراعظم حیدرالعبادی کی حکومت کے ساتھ اتحاد قائم کرنے یا اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے انھیں درپیش مسائل اور مشکلات پر کوئی توجہ نہیں دی ہے ۔اگر انھیں پتا ہوتا کہ حکومت ان کے ساتھ یہ سلوک کرے گی تو وہ کبھی داعش کے خلاف نہ لڑتے،اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے اور نہ اپنے لیے سنگین خطرات مول لیتے۔