.

فلسطینی ڈرائیور از خود اسرائیلی فوج کے حوالے

فوج نے تین اہلکاروں پر گاڑی چڑھانے کی تحقیقات شروع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غربِ اردن کے جنوبی علاقے میں تین اسرائیلی فوجیوں پر اپنی گاڑی چڑھانے والے فلسطینی نے جمعرات کے روز خود کو صہیونی فورسز کے حوالے کردیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''گذشتہ رات تین فوجیوں پر گاڑی چڑھانے والے مشتبہ فلسطینی نے خود کو حکام کے حوالے کردیا ہے اور اس سے اب تفتیش کی جارہی ہے''۔

اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں اس حملے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کردی ہے اور فلسطینیوں کی آزادانہ آمد ورفت کو روکنے کے لیے چوبیس لائٹ ریلوے اسٹیشنوں پر کنکریٹ کے بلاک لگائے جارہے ہیں۔

اسرائیلی پولیس نے مشرقی القدس میں فلسطینیوں کی آبادی والے علاقوں میں سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں اور چوکوں پر مزید نفری تعینات کی جارہی ہے۔

درایں اثناء اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ مسجد الاقصیٰ کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک ریگیف کے مطابق انھوں نے یہ بات سکیورٹی حکام کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔

بدھ کو فلسطینی ڈرائیور کے اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں پر اپنی گاڑی چڑھانے کے واقعے سے قبل مسجد الاقصیٰ میں فلسطینیوں اور قابض سکیورٹی فورسز کے درمیان کئی گھنٹے تک جھڑپیں جاری رہی تھیں۔

اسرائیلی پولیس نے فلسطینی مظاہرین کومنتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے،مظاہرین کو مسجد کے اندر ہی بند کردیا تھا اور پھر وہاں آنے والے یہودی انتہاپسندوں کو عبادت کی اجازت دے دی تھی۔
فلسطینی جماعت حماس نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک فلسطینی ڈرائیور کی جانب سے اسرائیلی راہ گیروں پر وین چڑھنے کے واقعے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس فلسطینی ڈرائیور نے گذشتہ روز ایک منی ریلوے اسٹاپ پر کھڑے راہ گیروں پر اپنی وین چڑھادی تھی جس کے نتیجے میں ایک اسرائیلی ہلاک ہوگیا تھا۔