امریکا میں ری پبلکنز کی برتری پر شام ہوشیار

ممکنہ امریکی حملہ؟روس سے میزائل دفاعی نظام دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی حکومت نے امریکی کانگریس میں حزب اختلاف ری پبلکن پارٹی کو برتری حاصل ہونے پر اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس سے امریکا کی شام سے متعلق خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔

شامی وزیرخارجہ ولیدالمعلم نے ایک انٹرویو میں اسد حکومت کے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ری پبلکنز صدر براک اوباما پر شام کی فوجی تنصیبات پر حملوں کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔اس ممکنہ خدشے کے پیش نظر شام نے روس سے جلد جدید میزائل فضائی دفاعی نظام مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ولیدالمعلم نے لبنانی روزنامے الاخبار کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ شام میں دولت اسلامیہ (داعش) کے ٹھکانوں پر بمباری کے دوران شامی فوج کو ہدف نہیں بنایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ''کیا ہم اس وعدے پر اعتبار کریں۔ہم سمجھتے ہیں صدر براک اوباما اس وقت تک تو داخلی وجوہ کی بنا پر شام کے خلاف جنگ سے گریز کرتے چلے آرہے ہیں لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ جب ان پر دباؤ بڑھے گا تو وہ کیا کرتے ہیں اور یہ دباؤ ری پبلکنز کی وسط مدتی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد بڑھے گا۔اس لیے ہمیں صورت حال سے نمٹنے کے لیے خود کو تیار رکھنا ہوگا''۔

شامی وزیرخارجہ سے یہ انٹرویو امریکا میں منگل کو منعقدہ وسط مدتی انتخابات سے قبل لیا گیا تھا۔ان انتخابات میں ری پبلکنز نے کانگریس میں کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور صدر اوباما کی ڈیمو کریٹک پارٹی کو شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

ولید المعلم کا کہنا تھا کہ ہم روسیوں کے ساتھ واضح انداز میں اس حوالے سے گفتگو کرتے رہے ہیں اور ان سے یہ کہ چکے ہیں کہ وہ صورت حال کا فائدہ اٹھائیں اور ہمیں جدید ہتھیار مہیا کریں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایس 300 طیارہ شکن میزائل نظام کا حوالہ دے رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا :''ہاں اور اس کے علاوہ ہمیں مزید جدید ہتھیار درکار ہیں اور ہم انھیں مناسب وقت میں حاصل کریں گے''۔

واضح رہے کہ روسی ساختہ ایس 300 جدید فضائی دفاعی نظام ہے اور اس سے زمین سے فضا میں طیاروں اور میزائلوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔روس کی جانب سے شام کو اس فضائی دفاعی نظام کی فروخت پر امریکا اور اس کے اتحادی ممالک اپنی تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔روسی صدر ولادی میر پیوتین نے گذشتہ سال ستمبر میں کہا تھا کہ فی الوقت شام کو یہ ہتھیار مہیا نہیں کیے جارہے ہیں لیکن انھوں نے اس کی کوئی وجہ بیان نہیں کی تھی۔

انھوں نے یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے روس کے دورے کے بعد دیا تھا اور انھوں نے روس پر زوردیا تھا کہ وہ شام کو یہ جدید ہتھیار مہیا نہ کرے۔ اسرائیل کے پشتی بان امریکا نے بھی شام کو یہ جدید ہتھیار مہیا کرنے کی مخالفت کی تھی حالانکہ شام اس میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے لیے روس کو کروڑوں ڈالرز ادا کرچکا ہے۔اس تمام سودے کی کل مالیت ایک ارب ڈالرزبتائی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں