.

شام میں امریکی حملے میں القاعدہ کا مبینہ بم ساز ہلاک؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے جنگی طیاروں نے شام میں داعش کے خلاف فضائی مہم کے دوران القاعدہ سے وابستہ ایک گروپ کے جنگجوؤں کے ایک سیل کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر ایک فرانسیسی بم ساز مارا گیا ہے۔

دو امریکی عہدے داروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ جنگی طیاروں نے شام کے شمال مغربی علاقے سرمدہ میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔تاہم انھوں نے فرانسیسی جنگجو ڈیوڈ ڈروجن کی ہلاکت یا اس کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی کارروائیوں کے کمانڈر جنرل لائیڈ آسٹن نے بھی فوری طور پر فضائی حملے کے اہداف اور اس میں ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔البتہ انھوں نے یہ کہا ہے کہ شاید ڈروجن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ڈروجن ایک فرانسیسی نومسلم ہے اور اس کی عمر چوبیس سال ہے۔اس نے تین سال تک افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں عسکری تربیت حاصل کی تھی اور افغانستان میں لڑتا رہا تھا۔اس کے بعد وہ 2013ء کے آخر میں یا 2014ء کے اوائل میں شام آگیا تھا۔

ادھر پیرس میں فرانسیسی وزیرداخلہ نے ڈروجن کی ہلاکت یا زخمی ہونے سے متعلق رپورٹس کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے۔پینٹاگان کے ایک ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے کہا ہے کہ فضائی حملے میں دومقامات میں پانچ اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ان میں القاعدہ سے وابستہ خراسان گروپ بھی شامل ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خراسان گروپ میں افغانستان اور پاکستان میں لڑنے والے القاعدہ کے جنگجو شامل ہیں اور بدھ کو اس گروپ کی بم بنانے کی جگہوں اور تربیتی علاقوں پر فضائی بمباری کی گئی ہے۔