.

فتح کا حماس پر غزہ میں بم حملوں کا الزام

حماس نے فتح رہ نماؤں کے مکانوں میں بم دھماکوں کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح نے غزہ کی پٹی میں اپنی سیاسی حریف اسلامی تحریک مزاحمت حماس پر اپنے لیڈروں کے مکانوں میں بم دھماکے کرانے کا الزام عاید کیا ہے۔

فتح کے سینیر رہ نما ناصرالقدوہ نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ ''فتح کی مرکزی کمیٹی آج اپنے لیڈروں کے خلاف ہونے والے جرائم کی مذمت کرتی ہے اور حماس کو ان جرائم کا ذمے دار ٹھہراتی ہے''۔

غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں جمعہ کو علی الصباح فتح کے لیڈروں کے مکانوں اور کاروں میں دس بم دھماکے ہوئے ہیں لیکن ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔البتہ گاڑیوں اور مکانوں کو شدید اور معمولی نقصان پہنچا ہے۔

فتح کے ایک اور رہ نما حسین الشیخ کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ غزہ میں فتح کے لیڈروں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے ،اس کی تمام تر ذمے دار حماس ہی ہے۔

حماس نے فوری طور پر ان بم حملوں کی مذمت کی ہے لیکن فتح کی مصالحتی ٹیم کے سربراہ اور سینیر رہ نما عزام الاحمد کا کہنا ہے کہ حماس کی اس مذمت سے وہ ان واقعات کی مکمل ذمے داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ''گذشتہ رات سے قبل حماس کی جانب سے فتح اور صدر محمودعباس کے خلاف ایسے اشارے دیے گئے تھے اور حماس کے فوجی حکام نے بھی مرحوم صدر یاسرعرفات کی برسی کی تقریبات کو سبوتاژ کرنے کی دھمکی دی تھی''۔

غزہ شہر میں لیجنڈ فلسطینی رہ نما مرحوم یاسرعرفات کی برسی کے موقع پر ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔فلسطین کی قومی حکومت کے وزیراعظم رامی حمداللہ اور بعض وزراء نے بھی اس ریلی میں شرکت کرنا تھی لیکن انھوں نے بم حملوں کے بعد اپنا دورہ منسوخ کردیا تھا۔غزہ میں گذشتہ چند سال کے بعد فتح کی یہ پہلی ریلی ہے۔

دوسری جانب حماس کے سیاسی شعبے کے نائب سربراہ موسیٰ ابو مرزوق نے بم حملوں کی مذمت کی ہے اور سیاسی دھڑوں پر زوردیا ہے کہ وہ بلاثبوت ایک دوسرے پرالزام تراشی سے گریز کریں۔

فلسطینی خبررساں ایجنسی معان کی اطلاع کے مطابق موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ ''فلسطینی دھڑوں کا فوری اجلاس بلایا جانا چاہیے،اس میں ان حملوں کی مذمت کی جانی چاہیے اور فتح کی حمایت میں متحد ہونا چاہیے''۔