.

نیتن یاھو کی مسجدا قصیٰ کو نقصان نہ پہنچانے کی یقین دہانی

بیت المقدس میں تشدد ناقابل برداشت ہے: اردن کا دو ٹوک موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اردنی فرمانروا شاہ عبد اللہ دوم کو یقین دلایا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھا جائے گا اور اس کے’اسٹیٹس‘ میں کسی قسم کا رد وبدل کرنے اور یہودیوں کو وہاں پر عبادت کی غرض داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تل ابیب میں اسرائیلی وزیر اعظم کے سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ حکومت مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے حوالے سے اردن کی نگرانی کے فیصلے پر قائم ہے۔ امن معاہدے کے تحت مسجد اقصیٰ کی نگرانی اور سر پرستی کی ذمہ داری اردن ہی کی ہے۔اسرائیل اس حیثیت کو تبدیل نہیں کرے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم اور نیتن یاھو نے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے جس میں دونوں رہ نمائوں نے بیت المقدس میں ہر طرح کے تشدد کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے۔

ادھر عمان میں اردنی شاہی دیوان سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعطم بنجمن نیتن یاھو نے شاہ عبداللہ دوم سے ٹیلیفون پر بات چیت میں یقین دلایا ہے کہ وہ بیت المقدس میں کشیدگی کو پُرامن طریقے سے ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ نیتن یاھو نے یقین دلایا کہ پرتشدد کارروائیوں کے باوجود مسجد اقصیٰ کی موجودہ حیثیت کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاھو سے بات کرتے ہوئے شاہ عبداللہ دوم مے واضح کیا کہ اردن مسجد اقصیٰ کی حرمت اور تقدس پر کسی قسم کے حملے برداشت نہیں کرے گا۔ اسرائیلی حکومت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کی بندش اور مقدسات اسلامیہ کے خلاف ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کو سختی سے روکنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل بیت المقدس میں ایسی صورت حال پیدا کرنے سے گریز کرے جس سے علاقائی امن وسلامتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

خیال رہے کہ اردن اور اسرائیل کے درمیان سنہ 1994ء میں طے پائے امن معاہدے کی رو سے اسرائیل نے بیت المقدس کے تمام مقدس اسلامی مقامات کی سرپرستی کا حق اردن کو دے رکھا ہے۔ معاہدے کے تحت مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادت کی غرض سے داخل نہیں ہو سکتے ہیں، تاہم اس کے علی الرغم یہودی آبادکار روزمرہ کی بنیاد پر مسجد اقصیٰ میں گھس کر وہاں تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرتے اور مقدس مقام کی کھلی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

بیت المقدس کی اسرائیلی پولیس نے بھی یہودی شرپسندوں کو مسجد اقصیٰ پر دھاووں کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ میں داخلے کے لیے اس کے تاریخی مراکشی دروازے کو اپنی آمد ورفت کے لیے مخصوص کر رکھا ہے، جہاں انہیں اسرائیلی پولیس کی جانب سے فول پروف سیکیورٹی مہیا کی جاتی ہے۔