.

مقبوضہ القدس :نمازجمعہ پر سکیورٹی کے سخت انتظامات

مسجد الاقصیٰ میں صرف 35سال سے زائد عمر مسلمانوں کو نماز کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں سکیورٹی مزید سخت کردی ہے اور مسجد الاقصیٰ میں صرف خواتین اور پینتیس سال سے زائد عمر کے مسلمانوں کو نماز جمعہ کے لیے داخل ہونے کی اجازت دی ہے جبکہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی نئی سربراہ نے کہا ہے کہ اگر امن مذاکرات کی بحالی کی جانب کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد کی نئی لہر شروع ہوسکتی ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں گذشتہ ایک ماہ سے انتہا پسند یہودیوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے کشیدگی پائی جارہی ہے اور وہ بار بار مسجد الاقصیٰ میں دراندازی کی کوشش کررہے ہیں۔اسرائیلی حکومت نے گذشتہ چند روز کے دوران رونما ہونے والے واقعات کے پیش نظر مسجد الاقصیٰ کے آس پاس نماز جمعہ کے موقع پر تیرہ سو سے زیادہ اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے تھے۔

اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا سامری نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پولیس افسروں کو علاقے میں امن وامان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ترجمان کے بہ قول خواتین اور پینتیس سال سے زیادہ عمر کے عبادت گزاروں کو مسجد الاقصیٰ میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔

اسرائیلی پولیس نے مسلمانوں کے قبلہ اوّل کی جانب جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں جس کے بعد قریباً پانچ سو فلسطینی نوجوانوں نے مسجد الاقصیٰ کی جانب جانے والی ایک شاہراہ پر نماز جمعہ ادا کی ہے۔اس دوران بیسیوں پولیس اہلکاروں نے ان کا گھیراؤ کیے رکھا ہے۔

امن مذاکرات کی بحالی پر زور

درایں اثناء یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی نئی سربراہ فیڈریکا مگرینی نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد کی نئی لہر شروع ہوسکتی ہے۔انھوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد مقبوضہ بیت المقدس کے پہلے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ اس وقت تعطل کا شکار امن عمل کو فوری طور پر بحال کرنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے انتہا پسند صہیونی وزیرخارجہ ایویگڈور لائبرمین کے ساتھ مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''اگر ہم سیاسی ٹریک پر آگے نہیں بڑھتے ہیں تو خدشہ یہ ہے کہ ہم دوبارہ تشدد کی جانب لوٹ جائیں گے۔ اس لیے میں امن عمل کو فوری طور پر آگے بڑھانے کی ضرورت پر زوردے رہی ہوں''۔

انھوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کو امن مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نئی یہودی بستیاں امن مذاکرات کی بحالی کی راہ میں حائل ہیں لیکن فریقین کے درمیان سیاسی عزم کی بھی کمی ہے اور ان مذاکرات کو نتیجہ خیز ہونا چاہیے۔مس مگرینی اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے دو روزہ دورے پر ہیں اور وہ ایویگڈورلائبرمین سے ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے بات چیت کرنے والی تھیں۔