.

عراق میں فوجی کرپشن نے داعش کی راہ ہموار کی: السیستانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ایک تشیع کے سرکردہ روحانی پیشوا آیت اللہ علی السیستانی نے اپنے ملک کی مسلح افواج کی عسکری کمزوریوں پر ایک مرتبہ پھر سخت الفاظ میں گرفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج میں ‌کرپشن کے ناسور نے دولت اسلامی ’’داعش‘‘ جیسے دہشت گرد گروپوں کو شمالی عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضے کا موقع فراہم کیا۔

خبر رساں ایجنسی’’رائیٹرز‘‘ کے مطابق علامہ آیت اللہ السیستانی نے کربلا میں خطبہ جمعہ کے دوران فوج پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ فوج میں بدعنوانی نے اسے اخلاقی اور پیشہ ورانہ کمزوریوں سے دوچار کر رکھا ہے۔ بدعنوانی کے علاوہ فوج کا سیاست کی طرف میلان بھی اس کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔

خیال رہے کہ 84 سالہ علی السیستانی پیرانہ سالی کے باعث خود تو تقریر نہیں‌ کرتے تاہم وہ اپنے معاونین کی مدد سے منبر پر آتے ہیں۔ ان کا کوئی معاون ایک تحریر کردہ خطبہ پڑھتا ہے۔ کل جمعہ کا خطبہ سید احمد الصافی نامی ایک معاون نے پڑھ کر سنایا۔ اس موقع پر علی السیستانی سے پوچھا گیا کہ کہا فوج کرپشن کرتی ہے تو انہوں نے کہا کہ فوج کرپشن نہ کرتی تو شمالی عراق میں داعش قبضہ نہ جماتی۔

آیت اللہ علی السیستانی کا کہنا تھا کہ ملک کی سرحدوں، ریاستی اداروں اور تمام شہروں کے جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری فوج کے کاندھوں پر ہے۔ جب فوج خود کو سیاست میں ‌ملوث کرے گی تو وہ ملک کی کس طرح حفاظت کر سکے گی؟ فوج اس وقت سیاست میں بھی ملوث ہو رہی ہے۔ جو ادارہ سیاست میں ملوث ہو وہ کرپشن سے کیسے بچ سکتا ہے۔

علی السیستانی کی جانب سے فوج پر تنقید پہلی بار سامنے نہیں آئی بلکہ وہ ماضی میں‌ بھی ریاستی اداروں اور حکومت کی مایوس کن کارکردگی پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ جب سے عراق کے ایک بڑے حصے پر دولت اسلامی داعش نے قبضہ کیا ہے، تب سے عراقی سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ آیت اللہ علی السیستانی کی جانب سے بھی فوج پر کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے۔