.

داعش کے شدید زخمی خلیفہ کی حالت نامعلوم؟

عراقی حکام نے ابوبکرالبغدادی کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی( داعش) کے خودساختہ خلیفہ ابوبکرالبغدادی کی امریکا کے فضائی حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد سے کوئی خبر نہیں ہے۔

عراق کے انٹیلی جنس حکام نے اتوار کو اپنے ذرائع کے حوالے سے ابوبکرالبغدادی کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔عراق کی وزارت داخلہ اور دفاع نے اتوار کو الگ الگ جاری کردہ بیانات میں کہا ہے کہ داعش کے خلیفہ زخمی ہیں لیکن اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔

ابوبکرالبغدادی ہفتے کو علی الصباح عراق کے شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے القائم میں امریکی جنگی طیارے کی بمباری میں مبینہ طور پر شدید زخمی ہوگئے تھے۔ امریکا کی سنٹرل کمان نے ایک بیان میں اس فضائی حملے کی تصدیق کی ہے۔البتہ اس نے حملے کی جگہ کوئی اور بتائی ہے۔

اس نے بیان میں کہا ہے کہ ''عراق کے شمالی شہر موصل کے نزدیک داعش کے لیڈروں کے گاڑیوں کے ایک قافلے کو بمباری میں نشانہ بنایا گیا تھا۔یہ حملہ داعش کے دہشت گردی کے نیٹ ورک پر مسلسل دباؤ کا مظہر ہے اور اس گروپ کی نقل وحرکت ،ابلاغ اور کمان کی صلاحیت بتدریج محدود ہوتی جارہی ہے''۔

العربیہ نیوز چینل نے ہفتے کے روز مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکی جنگی طیارے نے القائم کے نزدیک واقع ایک مکان پر بمباری کی تھی۔وہاں داعش کے سینیر عہدے داروں کا اجلاس ہورہا تھا۔حملے کے بعد متعدد مہلوکین اور زخمیوں کو القائم کے ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے ایک اسپتال کو خالی کرا لیا تھا تاکہ وہاں ان کے زخمیوں کا علاج کیا جاسکے۔انھوں نے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے علاقے کے مکینوں سے خون کے عطیات دینے کی بھی اپیل کی تھی۔

خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے مقامی لوگوں کے حوالے سے یہ غیر مصدقہ اطلاع دی ہے کہ اس فضائی حملے میں صوبہ الانبار میں داعش کا لیڈر اور اس کا نائب ہلاک ہوگیا ہے۔ تاہم داعش کے خلیفہ ابوبکرالبغدادی کے بارے میں تادم تحریر کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی تھی کہ وہ کس حال میں ہیں اور آیا ان کے زخم جان لیوا ہیں یا معمولی ہیں۔یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کسی خفیہ مقام پر زیرعلاج ہیں یا انھیں القائم ہی کے کسی اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔