.

داعش کے خودکش حملے میں عراقی پولیس جنرل کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار جنگجو گروپ داعش نے اطلاع دی ہے کہ اس کے خودکش بم حملے میں عراقی پولیس کا ایک اعلیٰ افسر مارا گیا ہے۔

داعش نے اتوار کو آن لائن پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس کے ابو سمیہ البریطانی نامی جنگجو نے بارود سے بھرے ایک ٹرک کو عراق کے شمالی شہر بیجی کے نواح میں دھماکے سے اڑایا ہے۔اس کے نتیجے میں عراقی پولیس کا میجر جنرل فیصل الزاملی ہلاک ہوگیا ہے۔ٹرک میں آٹھ ٹن بارود تھا''۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں دو اور خودکش بمبار ابوعبداللہ الترکستانی اور ابوعبداللہ الترکی بھی شریک تھے۔یہ دونوں ترکمانستان اور ترکی سے تعلق رکھتے تھے۔

اس جنگجو گروپ نے اسی سال قبل ازیں ''داعش شو'' کے نام سے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں ایک برطانوی جہادی ابوسمیّہ کا انٹرویو شامل تھا۔اب یہ واضح نہیں ہے کہ یہ وہی ابو سمیّہ ہے جس نے جمعہ کے روز بیجی کے نزدیک خودکش بم دھماکا کیا تھا یا یہ کوئی اور ہے۔

اس برطانوی جنگجو نے تب داعش کے اس نشریے میں کہا تھا کہ ''ہمارے لیے یہاں آزادی ہے ،مکمل آزادی۔میں کہیں بھی کلاشنکوف لے کر جاسکتا ہوں،اگر میں ایسا کرنا چاہوں تو راکٹ گرینیڈ بھی اپنے ساتھ لے جاسکتا ہوں''۔ اس وقت وہ شام میں لڑرہا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ یہ ایک فن ہے۔اس نے ایک ویڈیو گیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ آپ اپنے سامنے سب کچھ رونما ہوتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت شام اورعراق میں ہزاروں مغربی جنگجو داعش اور دوسری تنظیموں میں شامل ہوکر لڑرہے ہیں۔مغربی ممالک ان کے بارے میں اس خدشے کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ وہ اپنے علاقوں کو لوٹنے کی صورت میں حملے کرسکتے ہیں لیکن ابو سمیّہ کا کہنا تھا کہ اس کا برطانیہ لوٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

عراقی حکام نے بیجی حملے سے متعلق داعش سے ایک مختلف بیان جاری کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بارود سے بھرے ٹینکر ٹرک کے دھماکے میں فیصل الزاملی سمیت چار پولیس افسر مارے گئے تھے۔اس کے علاوہ دو کے بجائے تین اور خودکش بمبار تھے اور وہ اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔

عراق کے ایک سینیر افسرنے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ سرکاری فورسز کا بیجی کے ستر فی صد سے زیادہ حصے پر کنٹرول ہوچکا ہے۔بیجی شمالی شہر موصل اور اس سے جنوب میں تکریت شہر کے درمیان شاہراہ پر واقع ہے۔اس پر عراقی فورسز کے دوبارہ کنٹرول کی صورت میں تکریت پر قابض داعش کے جنگجوؤں کی سپلائی لائن کٹ کر رہ جائے گی۔اس کے علاوہ عراقی فورسز بیجی کے نواح میں واقع تیل صاف کرنے کے کارخانے کا کنٹرول بھی واپس لے سکیں گے۔اس پر داعش کے جنگجوؤں نے اگست سے قبضہ کررکھا ہے۔