.

اردن: داعش سے تعلق کے جُرم میں چار افراد کو قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی ایک عدالت نے شام اور عراق میں برسرپیکار جنگجو گروپ داعش سے تعلق کے الزام میں چار افراد کو تین سے پانچ سال تک قید کی سزا سنا دی ہے۔

ان چاروں اردنی شہریوں کو اگست میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے خلاف گذشتہ ہفتے ایک اسٹیٹ سکیورٹی عدالت میں مقدمے کی سماعت شروع کی گئی تھی۔عدالت نے ان میں سے دو کو داعش کی رُکنیت کے الزام میں پانچ، پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے اور دو کو اس دہشت گرد تنظیم کے نظریے کی انٹرنیٹ پر تشہیر کے جُرم میں تین، تین سال قید کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ اردن ان پانچ عرب ریاستوں میں شامل ہے جو شام میں امریکا کی قیادت میں داعش کے خلاف جنگی مہم میں شریک ہیں۔باقی چار ممالک قطر ،سعودی عرب ،بحرین اور متحدہ عرب امارات ہیں۔ان پانچوں ممالک کے جنگی طیارے شام میں داعش کے ٹھکانوں کو اپنے فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

ان ممالک کے جنگی طیارے عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری نہیں کررہے ہیں۔داعش نے شام اور عراق کے ایک وسیع علاقے پرقبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے اور ان سے اردن کو بھی خطرات لاحق ہیں۔اردن کی ان دونوں ممالک سے سرحدیں ملتی ہیں۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اردن نے داعش مخالف مہم میں شریک ہوکر اپنے لیے خطرات پیدا کرلیے ہیں۔

تاہم اردن کے شاہ عبداللہ دوم کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شرکت کا فیصلہ خطے میں جاری اتھل پتھل اور طوائف الملوکی کے پیش نظر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے وضع کردہ فریم ورک کے تحت کیا گیا ہے۔