بشارالاسد کا حلب میں لڑائی ''منجمد'' کرنے کی تجویز پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ وہ شمالی شہر حلب میں باغیوں کے ساتھ لڑائی ''منجمد'' کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی جانب سے پیش کردہ تجویز پرغور کے لیے تیار ہیں۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے دمشق میں صدر بشارالاسد سے ملاقات کی ہے اور انھیں حلب میں شامی فوج اور اس کے مخالف باغی جنگجو گروپوں کے درمیان لڑائی بند کرانے سے متعلق اپنے منصوبے کے اہم نکات سے آگاہ کیا ہے۔

شامی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ''بشارالاسد نے اس تجویز کو اہم قرار دیا ہے اور کہا ہے یہ وہ اس کا جائزہ لیں گے''۔ان کا کہنا ہے کہ حلب میں امن وامان کے قیام کے لیے اس تجویز پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈی مستورا کا جولائی میں شام کے لیے امن ایلچی مقرر ہونے کے بعد دمشق کا یہ دوسرا دورہ ہے۔انھوں نے 30 اکتوبر کو شام کے لیے ایک لائحہ عمل کا اعلان کیا تھا جس میں انھوں نے بعض علاقوں میں لڑائی منجمد کرنے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ خانہ جنگی سے متاثرہ افراد تک امدادی سامان پہنچایا جاسکے اور امن بات چیت کے آغاز کی راہ ہموار ہوسکے۔

شامی صدر کے فیس بُک صفحے کے مطابق ''بشارالاسد نے حلب کی اہمیت پر زوردیا ہے''۔خانہ جنگی کا شکار ملک کے اس سب سے بڑے شہر میں جولائی 2012ء سے اسدی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جاری ہے اور ان میں سے کوئی بھی فریق اس پر مکمل طور پر اپنا کنٹرول قائم نہیں کرسکا ہے۔شہر کے ایک حصے پر اسدی فوج کا قبضہ برقرار ہے اور دوسرے حصے پر باغیوں کا کنٹرول ہے۔

دسمبر 2013ء کے بعد سے شامی فوج کے جنگی طیارے حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر کم وبیش روزانہ ہی بمباری کررہے ہیں جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں۔شامی فوج اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شہری علاقوں پر فضائی حملوں پر عاید پابندی کے باوجود یہ سب کچھ کررہی ہے۔

درایں اثناء شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے ڈی مستورا کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ان کا مشن ضرور کامیابی سے ہم کنار ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ حلب میں لڑائی منجمد کرانا ان کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔

ان کے پیش رو عالمی امن ایلچی الاخضرالابراہیمی اور کوفی عنان بھی شام میں جنگ بندی کے لیے کوشاں رہے تھے اور انھوں نے خانہ جنگی کے دونوں فریقوں سے مذاکرات کے کئی ادوار کیے تھے لیکن وہ ان کے درمیان جنگ بندی کرانے میں ناکام رہے تھے۔شام میں 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے دوران قریباً دو لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور اس وقت ملک کی نصف آبادی بے گھر ہوکر پڑوسی ممالک میں پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہی ہے یا اپنے ہی ملک میں دربدر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں