.

عرب مظاہرین اسرائیل چھوڑ جائیں:نیتن یاہو

غزہ اور غرب اردن منتقلی میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے پولیس فائرنگ کے واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے والے عربوں سے کہا ہے کہ وہ صہیونی ریاست چھوڑ جائیں اور جا کر غرب اردن اور غزہ کی پٹی کے علاقے میں رہیں۔

اسرائیلی علاقوں میں آباد عرب صہیونی پولیس کے مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔اسرائیلی پولیس کے اہلکاروں نے ہفتے کے روز ایک عرب شخص کو بلاوجہ گولی مار کر شہید کردیا تھا۔اب اس کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کررہی ہے۔

نیتن یاہو نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''جو لوگ (اس واقعے کے خلاف) مظاہرے کررہے ہیں،اسرائیل کی مذمت کررہے ہیں اور ایک فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں تو میں ان سے سادہ سی بات کہنا چاہتا ہوں اور انھیں دعوت دیتا ہوں کہ وہ فلسطینی اتھارٹی یا غزہ کی جانب چلے جائیں''۔

صہیونی وزیراعظم نے اپنی جماعت لیکوڈ پارٹی کے ایک اجلاس میں کہا کہ ''میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اسرائیلی ریاست آپ کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی''۔ان کا اشارہ اسرائیلی علاقوں میں آباد عربوں کے غرب اردن اور غزہ کی پٹی کی جانب ہجرت کی طرف تھا۔

اسرائیلی پارلیمان کے معروف عرب رکن احمد طبی نے کہا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنی دائیں بازو کی جماعت کے ارادوں کا کھلے بندوں اظہار کردیا ہے حالانکہ اس طرح کی باتیں تو کسی سابقہ وزیراعظم نے بھی نہیں کی تھیں۔حتیٰ کہ مینخیم بیگن اور اضحاک شامیر نے بھی نہیں کی تھیں''۔

ان کا اشارہ اسرائیل کے دو انتہا پسند آنجہانی وزرائے اعظم کی جانب تھا جو صہیونی ریاست کے قیام سے قبل یہود کی مسلح ملیشیاؤں کی قیادت بھی کرتے رہے تھے۔ان مسلح یہودی جتھوں نے فلسطینیوں کو 1948ء میں ان کی آبائی سرزمین سے زبردستی نکال باہر کیا تھا۔آج وہ سڑسٹھ سال کے بعد بھی دنیا کے مختلف ممالک میں مہاجرت کی زندگی گزاررہے ہیں اور ان کا کوئی وطن نہیں۔

مسلح یہود کی چیرہ دستیوں اور جبری بے دخلی کی کارروائیوں کے باوجود اس وقت قریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار فلسطینی عرب اپنے آباء کی سرزمین ہی پر ٹکے رہے تھے اور آج ان کی آل اولاد اسرائیل کی کل اسّی لاکھ آبادی کا بیس فی صد ہیں۔ان میں سے زیادہ تر اسرائیل کے شمالی علاقوں میں آباد ہیں مگر انتہاپسند یہودی ان کا ان اپنی ہی آبائی سرزمین پر وجود برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔