.

غرب اردن میں یہودیوں کے لیے مجوزہ قانون منظور

اسرائیلی وزیرانصاف نے بل کی مخالفت کردی،اپیل دائر کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی ایک وزارتی کمیٹی نے ایک مجوزہ بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت غرب اردن میں فلسطینی سرزمین پر آباد یہودی آباد کاروں پر اسرائیلی قانون کا اطلاق ہوسکے گا۔

لیکن اسرائیل کی وزیرانصاف زیپی لیونی نے اس کی مخالفت کردی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف اپیل دائر کریں گی۔اس کے بعد اس مجوزہ قانون کو غیر معینہ مدت کے لیے پارلیمان میں توثیق کی غرض سے پیش نہیں کیا جا سکے گا۔

غرب اردن میں اب تک اسرائیل گذشتہ قریباً چارعشروں کے دوران ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ یہودی آباد کاروں کو بسایا جاچکا ہے اور یہ یہودی بستیاں اسرائیل کی سول عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں جبکہ اس کے برعکس مغربی کنارے کے شہروں اور دیہات سے گرفتار کیے جانے والے فلسطینیوں کے خلاف صہیونی فوج کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جاتے ہیں۔

نئے مجوزہ بل کے تحت متعلقہ کمانڈر کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ پینتالیس روز کے اندر فوجی حکم کو توثیق کے لیے پارلیمان میں پیش کرے گا اوراس کے بعد یہودی آباد کاروں پر اسرائیلی قانون کا اطلاق کیا جاسکے گا۔

اس بل کو مرتب کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے انتظامات سے مغربی کنارے کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور یہ بین الاقوامی قانون سے بھی متصادم نہیں ہے لیکن عالمی برداری یہودی آباد کاروں کی بستیوں کو فلسطینی علاقے ہی تسلیم کرتی ہے اور ان پر یہودیوں کے لیے تعمیرات کی مخالفت کررہی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس پر 1967ء کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا اور وہ تب سے عالمی برادری کے اعتراضات کے باوجود فلسطینیوں کی سرزمین کو ہتھیانے اور اس کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔اس کے تحت اس نے نئی نئی تعمیرات اور یہودی آبادکاروں کو بسانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اسرائیل کی غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس میں تعمیر کردہ یہودی بستیوں کو غیر قانونی قراردیتی ہے۔

فلسطینی غرب اردن میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔ان کا عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے ایک ڈیڈ لائن مقرر کرے،1967ء سے قبل کی سرحدوں میں فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرے اور مقبوضہ فلسطینی علاقے میں قائم یہودی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر پابندی عاید کردے۔فلسطینی غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل علاقے پر اپنی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔