مقبوضہ فلسطین میں حالات کشیدہ، اسرائیلی پولیس ہائی الرٹ

دفاع قبلہ اول میں سرگرم گروپ غیر قانونی قرار دینے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سنہ 1948ء میں اسرائیلی قبضے میں جانے والے فلسطینی علاقے کفر کنا میں اتوار کو رات گئے تک مشتعل فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔ اسرائیلی پولیس نے گرین لائن کے اندر واقع علاقوں میں دو ماہ قبل غزہ پر مسلط جنگ کے بعد پہلی مرتبہ کو ہائی الرٹ کیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی قصبے کفر کنا میں پچھلے ایک روز سے حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ یہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب مقامی آبادی نے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کےخلاف اسرائیلی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف شٹرڈائون ہڑتال کا اعلان کرنے کے ساتھ احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔

اتوار کے روز کفر کنا اور بعض دوسرے مقامات پر اسرائیلی پولیس اور فلسطینی مظاہرین کے مابین آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔ اندورن فلسطین کی مقامی سماجی تنظیموں اور تاجر برادری نے مزید 24 گھنٹے کے لیے کاروباری سرگرمیاں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد اسرائیلی پولیس کو کفر کنا اور دوسرے علاقوں میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

درایں اثناء اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے کابینہ کے اجلاس کے بعد سیکیورٹی حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے دفاع میں سرگرم گروپوں کو اشتعال انگیزی پھیلانے کے الزام میں خلاف قانون قرار دینے کے لیے لائحہ عمل مرتب کریں۔

خیال رہے کہ مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے ’’المرابطون‘‘ کے نام سے قائم کی گئی ایک تنظیم سرگرم عمل ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس گروپ میں شامل افراد کو مسجد اقصیٰ میں موجود رہنے کے لیے ماہانہ معاوضہ مہیا کیا جاتا ہے۔

اتوار کے روز صہیونی کابینہ کےاجلاس میں بیت المقدس میں پرتشدد مظاہرے کرنے اور اسرائیلی فوج پر حملوں میں ملوث عرب شہریوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔ نیتن یاھو نے اس تجویز کی منظوری کا عندیہ دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے بیت المقدس میں حالیہ کشیدگی کی ذمہ داری فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروپوں پر عائد کی جو ان کے بقول انتہا پسندی اور دہشت گردی کے فروغ میں ملوث ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں