.

برسوں بعد غرب اردن میں غزہ کی مچھلی فروخت

غزہ سے پکڑی گئی مچھلیوں کی پہلی کھیپ مغربی کنارا پہنچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں سمندر سے شکار کی گئی مچھلیوں کو پچھلے آٹھ سال کے بعد پہلی مرتبہ ’’کرم ابو سالم‘‘ گذرگاہ کے راستے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں میں پہنچایا گیا ہے۔

غزہ وزارت زراعت و ماہی گیری کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سوموار کے روز غزہ سے ایک ٹن مچھلی لے کر پہلا ٹرک مغربی کنارے پہنچا۔ جلد ہی غزہ سے سبزیوں سے لدے ٹرک بھی غرب اردن روانہ ہوں گے۔

فلسطینی ڈائریکٹر جنرل مارکیٹنگ و گذرگاہ امور تحسین السقا نے خبر رساں ایجنسی’’اے ایف پی‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں غزہ سے مچھلی اور سبزیوں کی مغربی کنارے درآمد میں مزید اضافہ ہو گا جس کے نتیجے میں زبوں حالی کا شکار غزہ کی معیشت کو سہارا ملے گا۔

غزہ کی پٹی میں مچھیروں کی یونین کے رکن منیر ابو خصیرہ نے کہا کہ سنہ 2006ٕء کے بعد پہلی مرتبہ شکار کی گئی مچھلی کی بھاری مقدار فروخت کے لیے مغربی کنارے بھجوائی گئی ہے۔ انہوں نے بھی امید ظاہر کی غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان آزادانہ تجارت کے نتیجے میں غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے اثرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں سمندر میں شکار کی گئی مچھلی اور سبزیاں مغربی کنارے کو فروخت کے لیے پیش کی جانے والی اہم اشیاء ہیں جس سے غزہ کی معیشت کو بہتری کی طرف لانے میں مدد ملے گی۔

ابو حصیرہ نے مطالبہ کیا کہ غزہ کے ماہی گیروں کو چھ کے بجائے 12 ناٹیکل میل کی حدود میں مچھلی کے شکار کی اجازت فراہم کی جائے۔ خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے ماہی گیروں کو سمندر میں صرف تین سے چھ میل تک مچھلی کے شکار کی اجاز دی گئی ہے۔ اس کے باوجود ان پراپنی حدود کے اندر بھی حملے ہوتے رہتے ہیں۔