اسرائیل مذہبی جنگ کی سازش کر رہا ہے: محمود عباس

مسجد اقصی کو تقسیم نہیں کرنے دیں گے: عرفات کی برسی سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے مشرقی یروشلم میں اسرائیلی فوج اور پولیس کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور مسجد اقصی میں یہودیوں کی بار بار آمد کی بنیاد پر کہا ہے کہ اسرائیل مذہبی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

صدر محمود عباس نے یاسر عرفات کی دسویں برسی کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس حالیہ بیان کا بھی نوٹس لیا جس میں یاہو نے کہا تھا '' محمود عباس حالات کو زیادہ خراب کر رہے ہیں ۔''

نیتن یاہو نے مزید کہا تھا '' بجائے اس کے کہ وہ کشیدگی کو کم کرتے انہوں نے اسے بڑھاوا دینا شروع کر دیا ہے اور وہ اپنے لوگوں کو دہشت گردانہ کارروائیوں کا سبق دے رہے ہیں۔''

واضح رہے غزہ پر اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے، مشرقی یروشلم سمیت مسجد اقصی میں حالات کو کشیدہ کر دیا ہے، آئے روز فلسطینی نوجوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔

اس وجہ سے فلسطینیوں میں سخت غم و غصہ ہے۔ نیتن یاہو سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی کارروائیوں کے بعد بھی محمود عباس کو اپنی توجہ فلسطینیوں کو ردعمل سے روکنے پر مرکوز رکھنی چاہیے۔ اس سے قبل اسرائیلی رویے کی وجہ سے امن مذاکرات بھی معطل ہو چکے ہیں۔

محمود عباس نے نیتن یاہو کے الزامات کے جواب میں کہا '' اسرائیل یروشلم کو تقسیم کرنے کے لیے کوشش کر رہا ہے اور اس اسرائیلی منصوبے میں مسجد اقصی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

محمود عباس نے دوٹوک انداز میں کہا اسرائیل اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ آسانی سے مسجد اقصی کے بارے میں اپنے مذموم مقاصد کو پورا کر لے گا جیسا کہ وہ مسجد ابراہیمی کے حوالے سے کر چکا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ لیکن ہم انہیں خبردار کرتے ہیں کہ مسجد اقصی کو تقسیم کرنے کی کوشششیں کر کے ایک مذہبی جنگ کا آغاز کر رہے ہیں۔

خیال رہے فتح اور حماس کے درمیان جون میں ہونے والے اتحاد کے نتیجے میں فتح کو امید تھی کہ پہلی مرتبہ یاسر عرفات کی برسی کی تقریب غزہ میں بھی ہو سکے گی۔ لیکن غزہ میں بعض رہنماوں کے گھروں پر ہونے والے دھماکوں کے بعد یہ ممکن نہ رہا۔

اس صورت حال میں محمود عباس نے حماس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ فتح کے حامی رہنماوں کے گھروں کو نشانہ بنانے میں اس کا ہاتھ ہے۔

دریں اثناء یروشلم اور مسجد اقصی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر بعض اسرائیلی اس خوف کا اظہار کر رہے ہیں کہ فلسطینی ایک مرتبہ پھر انتفادہ کی طرف بڑھ رہے ہیں، تاہم بعض سکیورٹی ماہرین نے بدامنی کے واقعات کے باوجود انتفادہ کو فی الحال بعید از قیاس قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں