.

ایران کا شام میں میزائل کارخانوں کے قیام کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل امیر علی حاجی زادہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ملک نے شام میں میزائل سازی کے کئی کارخانے قائم کر رکھے ہیں۔

ایرانی عہدیدار نے جریدہ" قیام سجیل" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "ہم نے میزائل سازی اور اس کے استعمال کی تربیت لیبیا اور شام سے حاصل کی اور اب ہم یہ ٹیکنالوجی شام کو برآمد کر رہے ہیں"۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران ان دنوں مغرب کے ساتھ بیلسٹک میزائلوں کی تیاری روکنے کے لیے مذاکرات نہیں کر رہا؟ تو امیر علی زادہ کا کہنا تھا کہ "مغربی ممالک ہمیں میزائل سازی سے روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو وہ ہمیں روک کر دکھائیں۔ ہماری مرضی کے بغیر وہ ہم سے یہ مطالبہ نہیں کر سکتے۔ میزائل سازی ہماری ضرورت ہے اور ایران کو جس طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے، ان کے ہوتے ہوئے میزائل سازی کا عمل بند نہیں کیا جا سکتا"۔

ایک سوال کے جواب میں ایرانی عسکری عہدیدار نے انکشاف کیا کہ بیلسٹک میزائلوں کی تیاری میں پچھلے پچیس برسوں کے دوران 72 سائنسدانوں نے اپنی جانوں کی قربانی پیش کی ہے تاہم انہوں‌نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

خیال رہے کہ ایران کے شام میں میزائل کارخانوں کا انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب چھ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان تہران کے متنازعہ جوہری اور میزائل پروگرام پر مذاکرات ایک بار پھر جاری ہیں۔ عالمی برادری کا کہنا ہے کہ ایران فوجی مقاصد کے لیے جوہری توانائی تیار کر رہا ہے تاہم خود ایران اس دعوے کی سختی سے تردید کرتا چلا آیا ہے۔

بریگیڈئیر علی زادہ نے اعتراف کیا کہ تہران نے میزائل ٹیکنالوجی لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور فلسطینی مزاحمتی گروپوں کو بھی فراہم کی ہے۔