شام:داعش مخالف حملوں میں 865 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے فضائی حملوں میں اب تک 50 شہریوں سمیت 865 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ بات برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بدھ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتائی ہے۔آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اتحادی جنگی طیاروں کی بمباری میں زیادہ تر داعش کے جنگجو ہلاک ہوئے ہیں اور ان کی تعداد 746 ہے۔تاہم مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ بہت سے علاقوں تک آبزرویٹری کے نیٹ ورک سے وابستہ رضا کاروں کی رسائی نہیں ہے۔

شام میں امریکا اور بعض عرب ممالک کے جنگی طیاروں نے 23 ستمبر کو داعش کے خلاف فضائی مہم کا آغاز کیا تھا جبکہ پڑوسی ملک عراق میں امریکا کے لڑاکا طیارے جولائی سے اس سخت گیر جنگجو گروپ کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں آٹھ کم سن بچے بھِی شامل ہیں۔شام میں داعش کے علاوہ القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کے 68 ارکان بھی فضائی بمباری میں ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکا اوراس کے اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں نے شام کے صوبوں حلب ،دیرالزور ،الحکسہ ،الرقہ اور ادلب میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ان صوبوں میں داعش نے اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ وہ شام میں فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی رپورٹس کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے اور وہ اس حوالے سے ہر الزام کی تحقیقات کرے گا۔

امریکا نے شام میں داعش کے خلاف فوجی مہم کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظوری نہیں لی تھی اور اس کا کہنا ہے کہ وہ عالمی ادارے کے منشور کی دفعہ 51 کے تحت یہ کارروائی کررہا ہے کیونکہ اس کے تحت اس کو ممکنہ مسلح حملے سے دفاع کے لیے پیشگی انفرادی یا اجتماعی کارروائی کا حق حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں