یہودی آباد کاروں کے لیے 300 نئے مکانات منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کو بسانے کے لیے مزید تین سو نئے مکانوں کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس کی بلدیہ کی منصوبہ بندی کمیٹی کے نائب سربراہ آمنون اربیل نے کہا ہے کہ ان کی کمیٹی نے بدھ کو اس تعمیراتی منصوبے کی منظوری دی ہے۔مسٹر اربیل کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ابھی دوسری بہت سی رکاوٹیں دور کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر تعمیراتی کام شروع ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے یہودی آبادکاروں کو فلسطینی سرزمین پر بسانے کے لیے اس منصوبے کی ایسے وقت میں منظوری دی ہے جب مقبوضہ القدس میں پہلے ہی فریقین کے درمیان شدید کشیدگی پائی جارہی ہے اور فلسطینی اس مقدس شہر کو یہودیانے کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

انتہا پسند یہودی آبادکار مسلمانوں کے مقدس مقامات کو اپنے حملوں میں نشانہ بنارہے ہیں اور انھوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد مرتبہ مسجد الاقصیٰ کی بے حرمتی کی ہے۔ان یہودی آبادکاروں نے بدھ کوغرب اردن کے ایک گاؤں میں مسجد کو آگ لگا دی ہے جس کے نتیجے میں اس کی پہلی منزل شہید ہوگئی ہے۔گاؤں کے مئیر نے یہودی آبادکاروں پر اس حملے کا الزام عاید کیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس پر 1967ء کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا اور وہ تب سے عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود فلسطینیوں کی سرزمین ہتھیانے اور اس کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔اس کے تحت اس نے نئی نئی تعمیرات اور یہودی آبادکاروں کو بسانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اسرائیل کی غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس میں تعمیر کردہ یہودی بستیوں کو غیر قانونی قراردیتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں