.

داعش مخالف جنگ:حزب اللہ میں غیر شیعوں کی بھرتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر سنی جنگجو گروپ دولتِ اسلامیہ (داعش) کے خلاف جنگ کے لیے اب غیر شیعہ افراد کی بھرتی شروع کردی ہے۔

لبنان کی ایک نیوز ویب سائٹ ڈیلی اسٹار نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقے میں حزب اللہ کی اس نئی بھرتی کا عمل جاری ہے۔ان نئے بھرتی کنندگان کو اسلحہ اور تربیت دی جارہی ہے تاکہ داعش اور اس سے وابستہ جنگجو گروپوں کا دونوں پڑوسی ممالک میں مقابلہ کیا جاسکے۔

رپورٹ کے مطابق شیعہ ملیشیا کے ان زیر تربیت جنگجوؤں میں لبنان کی دروز ،عیسائی اور سنی کمیونٹیوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔تاہم حزب اللہ نے اپنے طور پر اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔واضح رہے کہ اس وقت اس تنظیم کے ہزاروں جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں سرکاری فوج کے شانہ بشانہ سنی باغیوں ،داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے خلاف لڑرہے ہیں۔

تاہم اس نے عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں اپنے جنگجوؤں کی موجودگی کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے لیکن غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق حزب اللہ کے بیسیوں جنگجو اس وقت شمالی عراق میں شیعہ ملیشیاؤں اور عراقی فوج کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف لڑرہے ہیں اور گذشتہ دنوًں اس کے متعدد کمانڈروں کی لڑائی کے دوران ہلاکتوں کی اطلاعات بھی منظرعام پر آئی تھیں۔

لبنان کے شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں گذشتہ ماہ القاعدہ سےوابستہ باغی جنگجو تنظیم النصرۃ محاذ کے حملے میں حزب اللہ کے دس ارکان ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔النصرۃ محاذ کے سیکڑوں جنگجوؤں نے شام اور لبنان کے درمیان سرحد پر واقع پہاڑی سلسلے میں قائم حزب اللہ کی متعدد چوکیوں پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔

اس واقعہ سے دو ہفتے پہلے مشرقی قصبے عرسال میں داعش اورالنصرۃ محاذ کے جنگجوؤں نے لبنانی سکیورٹی فورسز پر ایک مشترکہ حملہ کیا تھا۔جہادیوں نے کئی روز تک اس قصبے کے بعض حصوں پر قبضہ کیے رکھا تھا اور وہ مقامی لوگوں کی مداخلت کے بعد وہاں سے انخلاء پر آمادہ ہوئے تھے لیکن جاتے ہوئے تیس لبنانی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو بھی یرغمال بنا کرساتھ لے گئے تھے۔انھوں نے ان میں سے تین کو بعد میں ہلاک کردیا تھا۔