.

مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں سے کشیدگی بڑھے گی: امریکا

اسرائیل کے تعمیراتی منصوبے پر امریکی ترجمان جین پاسکی کا اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اسرائیل کی طرف سے مشرقی یروشلم میں مزید 200 یہودیوں کو گھر بنا کر دینے کے تازہ فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے پے در پے اقدامات سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ایک تصادم کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ جبکہ پچھلے کئی ہفتوں سے پہلے ہی مقبوضہ بیت المقدس میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی نے اسرائیلی اعلان پر کہا '' ہمیں اس پر سخت تشویش ہے، یہ ایک غیر منصفانہ اعلان ہے جیسا کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری سمیت امریکا کا موقف مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف واضح طور پر موجود ہے۔ ''

ترجمان نے کہا '' یہودی بستیوں کی تعمیر کے یہ اعلانات پہلے سے موجود کشیدگی کو بڑھانے کا ذریعہ بنیں گے نہ کہ کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکیں گے۔''

واضح رہے اسرائیل نے یہ اعلان امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے اردن پہنچنے سے محض چند گھنٹے پہلے کیا تھا۔

اسرائیلی پولیس کی مسجد اقصی پر حالیہ چڑھائی کے خلاف ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اردن نے اسرائیل سے اپنا سفیر بلا لیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتہ بعد جان کیری اردن کے دورے پر آئے ہیں۔

اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلط کردہ حالیہ خونی جنگ کے بعد مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں بھی اسرائیلی رویہ مسلسل جارحانہ ہے۔

اسرائیلی میونسپلٹی کے ایک ترجمان نے بدھ کی شام ہی اعلان کیا تھا کہ اسرائیل 200 یہودیوں کو مشرقی یروشلم میں گھر دے گا۔

واضح رہے یہ علاقہ فلسطینی ہے، جس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کر لیا تھا۔ فلسطینی اور عالمی برادری اس پر اسرائیلی تعمیرات کو اسرائیل کا جارحانہ اقدام قرار دیتی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اردن کے شاہ عبداللہ کے علاوہ اردن میں ہی فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بھی یروشلم کی حالیہ دنوں میں کشیدہ ہو جانے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ جان کیری کا اسرائیل جانے یا اسرائیلی وزیراعظم نیتنن یاہو سے ملاقات کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وہ جمعہ کے روز امارات میں معقدہ سکیورٹی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔