.

کرد جنگجوؤں نے کوبانی میں داعش کی سپلائی لائن کاٹ دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور ترکی کی سرحد سے متصل کُرد اکثریتی علاقے کوبانی میں کرد جنگجوؤں نے ایک مرکزی شاہراہ پر حملہ کر کے دولت اسلامی " داعش" کی سپلائی لائن کاٹ دی ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والی شامی آبزویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ کرد جنگجوؤں نے بدھ کو ترکی کی جنوب مشرقی سرحد کے قریب ایک مرکزی شاہراہ پر حملہ کر کے اس کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا اور داعش کی سپلائی لائن کاٹ دی ہے۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی کردوں کے دفاع میں سرگرم " کرد پیپلز ڈیفنس یونٹس" کی جانب سے کی گئی جس میں جنوب مشرقی کوبانی اور حلنج کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پرقبضہ کرنے کے بعد دولت اسلامی کی آمد ورفت روک دی ہے۔ مرکزی شاہراہ پر قبضے کے بعد کرد جنگجوؤں نے دفاعی اہمیت کے حامل مشتی النور کے مقام پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے بھی کیے ہیں۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ داعشی جنگجوؤں اور کرد عناصر کے درمیان منگل اور بدھ کی درمیانی شب گھمسان کی لڑائی جاری ہی۔ بدھ کو علی الصباح کردوں نے ایک مرکزی شاہراہ پر قبضہ کرکے داعش کی سپلائی لائن کاٹ دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق داعش اس سڑک کو شام کے الرقہ، حلب شہروں اور کوبانی کے درمیان رابطے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے 16 ستمبر کو کرد اکثریتی علاقے کوبانی کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا تاہم عالمی اتحادی افواج کے حملوں کے بعد داعش مزید پیش رفت نہیں کرسکی ہے۔ شہرمیں دولت اسلامی اور کرد جنگجو عناصر کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔ پچھلے ایک ماہ میں اب تک دونوں طرف سے فریقین کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

شام کے شہر الرقہ اور حلب کے ایک بڑے حصے پر عملا داعش کا کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔ داعش اپنے دوسرے جنگی محاذوں سے انہی شہروں سے اسلحہ اور دیگر ضروری سامان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس وقت شام میں کوبانی کے 60 سے 70 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط شہر پر قبضے کے لیے لڑائی جاری ہے۔

منگل کے روز کوبانی میں ہونے والی جھڑپوں میں داعش کے گیارہ اور کردوں کے 06 جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔ پچھلے ایک ماہ میں کوبانی میں پرتشدد کارروائیوں میں 1000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ مرنے والوں میں ایک بڑی تعداد داعشی جنگجوؤں کی بھی بتائی جاتی ہے۔