.

مسجد الاقصیٰ میں نماز جمعہ کےلیے عمرکی قید ختم

اسرائیلی وزیراعظم اور اردنی شاہ کے درمیان بات چیت کے بعد اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ میں گذشتہ کئی مہینوں کے بعد پہلی مرتبہ تمام عمر کے مسلمان مردوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی ہے جس کے بعد فلسطینی مسلمانوں کی بڑی تعداد نے اپنے قبلہ اول میں نماز جمعہ ادا کی ہے۔

اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزنفیلڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ٹیمپل ماؤنٹ (مسجد الاقصیٰ) میں عبادت کے لیے آنے والوں پرآج عمر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ ہمیں امید ہے کہ چیزیں پُرامن رہیں گی''۔واضح رہے کہ یہود مسجد الاقصیٰ کے لیے ٹیمپل ماؤنٹ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر میں اور اس کے آس پاس کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے آج صبح پولیس کے اضافی یونٹ تعینات کردیے گئے ہیں۔

مسٹر روزنفیلڈ نے مسجد الاقصیٰ میں مسلمانوں پر عاید پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کو جمعرات کو اردن میں مذاکرات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے عمان میں کہا تھا کہ ''شاہ عبداللہ دوم اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان مقبوضہ بیت المقدس میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے اتفاق رائے ہوگیا ہے''۔

جان کیری نے اردنی وزیرخارجہ ناصر جودہ کے ساتھ نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''مسجد الاقصیٰ کی حیثیت کو جوں کا توں برقرار رکھنے کے لیے پختہ وعدے کیے گئے ہیں۔اردن اور اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کے خاتمے اور اعتماد کی بحالی سے بھی اتفاق کیا ہے''۔

اسرائیل نے گذشتہ جمعہ کو مسجد الاقصیٰ میں صرف خواتین اور پینتیس سال سے زائد عمر کے مسلمانوں کو نماز جمعہ کے لیے داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔مقبوضہ بیت المقدس میں گذشتہ ایک ماہ سے انتہا پسند یہودیوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے کشیدگی پائی جارہی ہے اور وہ بار بار مسجد الاقصیٰ میں دراندازی کی کوشش کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے انتہا پسند یہود مسجد الاقصیٰ میں عبادت کے نام پر دراندازی کے لیے ایک عرصے سے مہم چلا رہے ہیں۔ان میں آبادکار یہودی پیش پیش ہیں۔ان کے ان مذموم عزائم کے خلاف فلسطینی سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہناہے کہ ان کی حکومت مسجد الاقصیٰ کے کمپاؤنڈ کی حیثیت میں ایسی کسی تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے جس سے یہود کو مسجد کے اندر جانے کی اجازت مل جائے۔