مقبوضہ یروشلم میں کشیدگی میں کمی پر اتفاق ہو گیا: کیری

شاہ عبداللہ دوم اور محمود عباس کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان مشرقی یروشلم میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے یہ بات اردن کے دارالحکومت عمان میں یروشلم کی صورت حال کے حوالے سے ایک اہم اجلاس اور ملاقاتوں کے بعد کہی ہے۔

اس سے پہلے اردن کے شاہ عبداللہ دوم، جان کیری اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان بھی عمان میں ہی ایک ملاقات ہوئی۔ شاہ عبداللہ دوم کے محل میں ہونے والے ایک سہ طرفہ اجلاس کے بعد جان کیری اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے بھی ملاقات کی ہے۔

جان کیری نے ان ملاقاتوں کے نتیجے کے طور پر کہا ''سب کی طرف سے یروشلم میں امن کے لیے گہری کمٹمنٹ کا اظہار کیا گیا ہے تاکہ اس مقدس شہر میں پہلے سے کیے گئے فیصلوں پر عمل کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود پوزیشنوں کو بر قرار رکھا جا سکے۔ ''

جان کیری نے کہا ''اسرائیل اور اردن کے درمیان باہمی اعتماد کی بحالی اور کشیدگی میں کمی کے لیے دونوں اقدامات کریں گے۔''

واضح رہے شاہ عبداللہ دوم اس سے پہلے بار بار اسرائیل کی طرف سے مسجد اقصی پر حملے کیے جانے پر احتجاج کر چکے ہیں۔ شاہ عبداللہ دوم کا مطالبہ رہا ہے کہ ان اسرائیلی زیادتیوں اور ظلم پر مبنی اقدامات کو روکا جائے۔

مقبوضہ یروشلم میں کشیدگی کا آغاز چند ہفتے قبل شروع ہوا تھا جب مسلمانوں کو مسجد اقصی میں داخل ہونے سے زبردستی روکا گیا۔

جان کیری جنہوں نے یورپ اور چین کے دورے کے بعد اردن کا دورہ کیا ہے۔ اردن پہنچنے کے بعد مسجد اقصی کے انتظامی معاملات کے نگران شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں شاہ عبداللہ دوم نے جان کیری کو دوٹوک کہا کہ اسرائیل کو پہلے اپنی تجاوز پر مبنی اور یکطرفہ اقدامات روکنا ہوں گے۔

اسرائیل کی طرف سے حالیہ دنوں میں بار بار مسجد اقصی کے حوالے سے ناجائز، یکطرفہ اور جارحانہ اقدامات کی وجہ سے اردن نے اپنے سفیر اسرائیل سے واپس بلایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں