انتہا پسندوں کے خلاف جنگ نیا موڑ لے رہی ہے: ڈیمپسی

اعلیٰ ترین امریکی جنرل کی عراق آمد، حکام سے ملاقاتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا کہ جہادیوں کے زیر تسلط موصل پر قبضے کی عراقی کوشش مشکل ہونے کے علاوہ پیچیدہ بھی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے زمینی حالات کا اندازہ لگاتے ہوئے کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ موصل اور شامی سرحد پر عراقی فوج کو امریکی فورسز کی عملی معاونت کی ضرورت ہے۔ وہ بغداد حکومت کے ساتھ اپنے دورے کے دوران اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جنگ کو بھی زیر بحث لائیں گے۔

امریکی جنرل عراق کی اندرونی صورت حال کا جائزہ لینے اور موجود امریکی فوجیوں کی معاونت کے عمل کا معائنہ کرنے عراقی دارالحکومت بغداد پہنچ گئے ہیں۔

امریکی جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ اِس وقت عراق میں امریکی فوجی کا حجم انتہائی معمولی ہے اور اِن فوجیوں میں اضافے کا امکان بھی محدود ہے۔ جنرل ڈیمپسی کے مطابق ایسے حالات سامنے نہیں آئے کہ امریکی فوج آگے بڑھ کر عراقی فوج کی جنگ کو اپنے ہاتھ میں لے۔

دو روز قبل امریکی جنرل نے عراقی فوج کی حالیہ کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ بغداد حکومت کی فوج اب بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے۔ اُن کا اشارہ عراقی فوج کی بیجی شہر میں داخل ہونے کے علاوہ موصل پر دوبارہ قبضے کی تیاریوں سے متعلق ہے۔

رواں برس موسمِ گرما کے دوران جہادی تنظیم اسلامک اسٹیٹ کی پیشقدمی پر ہزاروں عراقی فوجی وردیاں اتار کر موصل سے فرار ہو گئے تھے۔ جنرل مارٹن ڈیمپسی کے عراقی دورے کا پہلے سے اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ ابھی ایک دو روز قبل عراقی فوج نے بیجی شہر پر اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں کو پسپا کر دیا تھا۔

اعلیٰ امریکی جنرل ایک ایسے وقت میں عراق کا دورہ کر رہے ہیں جب عراقی دارالحکومت بغداد کے شمالی حصے کے ایک مصروف کاروباری علاقے میں کیے گئے کار بم حملے میں پولیس اور طبی ذرائع کے مطابق کم از کم 15 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہو گئے۔

یہ تازہ بم حملہ گزشتہ رات کیا گیا، جس کے بعد شہر میں صرف کل جمعے کے روز ہونے والے بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 34 ہو گئی ہے۔ بغداد میں جمعے کے روز چار مختلف مقامات پر بم دھماکے کیے گئے، جن میں زیادہ تر شیعہ آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے سب سے ہلاکت خیز بم دھماکا رات گئے کیا جانے والا حملہ تھا، جو 15 افراد کی ہلاکت کا باعث بنا۔ ان بم حملوں میں کُل 80 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں