ترکی: خواتین دوست مسجد کی تعمیر، آرکیٹیکٹ بھی دو خواتین

خواتین کے ساتھ آنے والے بچوں کے لیے بھی کمرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

استنبول میں ایک پہاڑی کی چوٹی پر زیر تعمیر دیوقامت اور غیر معمولی طور پر خوبصورت مسجد خواتین کے لیے ایک زیادہ دوستانہ تعمیری نقشے کے تحت بنائی جا رہی ہے۔

یہ مسجد ترکی کے ایشیائی حصے میں 1923 کے بعد تعمیر کی گئی مساجد میں سے سب سے بڑی مسجد ہو گی۔

مسجد کے حوالے سے سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے دو خواتین آرکیٹیکٹ نے ڈیزائن کیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ مسجد میں خواتین کی سہولت کا زیادہ خیال رکھا گیا ہے۔

بعض لوگ عورت دوست تعمیری منصوبے تحت بننے کی وجہ سے اس مسجد کو مثبت جنسی امتیاز سے تعبیر کرتے ہیں۔ دو خواتین آرکیٹیکٹ بہار مزراق اور حیریے گل تاتو نے اسے ڈیزائن کیا اور اس کی تعمیراتی لاگت چھیاسٹھ اعشاریہ پانچ ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔۔

مسجد میں خواتین کے لیے الگ وضو گاہیں تعمیر کی جانے کے علاوہ الگ سیڑھیاں بھی موجود ہیں تاکہ وہ نماز کی ادائیگی کے لیے الگ ہال میں جا سکیں۔

نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد آنے والی خواتین کے لیے ایک اضافی سہولت یہ بھی ڈیزائن میں شامل کر دی گئی ہے کہ نمازی خواتین کے ساتھ آنے والے ان کے بچوں کے لیے بھی کمرہ تعمیر کیا گیا ہے۔

یہ مسجد تیس ہزار مربع میٹر پر محیط ہے، جو سات ایکڑ سے زیادہ جگہ بنتی ہے۔ مسجد میں معذور افراد کی سہولت کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔

مسجد میں اسلامی آرٹ گیلری، لائبریری اور اسلامی تاریخ و ورثے کے تحفظ کے لیے ایک میوزیم بھی اس کے نقشے میں ہی شامل ہے۔ یہ اسلامی ثقافت کے آئینہ دار گوشے ہوں گے۔

مسجد میں نماز کے لیے آنے والوں کی گاڑیاں بحفاظت پارک کرانے کے لیے 3400 گاڑیوں کی گنجائش پر مبنی پارکنگ ایریا مختص کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس مسجد کی تعمیر جولائی 2016 تک مکمل ہو گی۔

ایک طالبہ علم نے اس مسجد کے بارے میں کہا '' میں اپنا زیادہ تر وقت گھر سے باہر گذارتی ہوں، اس دوران ادائیگی نماز کے لیے اس مسجد میں فراہم کردہ سہولیات کی مثال کسی اور مسجد موجود نہیں ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں