.

اسرائیل القدس میں یہودآبادکاری کو محدود نہیں کرے گا:وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے انتہا پسند وزیرخارجہ ایویگڈور لائبرمین نے کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیراتی سرگرمیوں کو محدود نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے جرمن وزیرخارجہ فرینک والٹر اسٹینمئیر کے ساتھ نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''ایک بات واضح ہونی چاہیے،ہم مقبوضہ بیت المقدس کے یہودی آبادی والے علاقوں میں تعمیرات کو آبادکاری کی سرگرمی قرار دینے سے متعلق تعریف کو تسلیم نہیں کریں گے''۔

انھوں نے مزید بھاشن دیا کہ ''ہم مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے ان علاقوں میں تعمیرات پر کسی تحدید کو قبول نہیں کریں گے''۔ ان کے اس بیان سے چار روز قبل ہی اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں واقع یہودی بستی راموت میں دوسو نئَے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔

اسرائیل کے اس اعلان پر امریکا نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے برسرزمین فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس سے کشیدہ صورت حال کے خاتمے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس پر 1967ء کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا اوربعد میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔اسرائیل عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود فلسطینیوں کی سرزمین ہتھیانے اور اس کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کی پالیسی پر مسلسل عمل پیرا ہے۔اس کے تحت اس نے نئی نئی تعمیرات اور یہودی آبادکاروں کو بسانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اسرائیل کی غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس میں تعمیر کردہ یہودی بستیوں کو غیر قانونی قراردیتی ہے جبکہ اسرائیل ان کو اپنے تئیں قانونی قرار دیتا ہے اور وہ مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا ابدی دارالحکومت بھی قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی اس مقدس شہر کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔