عراق: داعش کے خلاف خواتین کی مسلح تنظیم کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں جہاں شدت پسند گروپ دولت اسلامی نے عراقی فوج کے چھکے چھڑا دیے ہیں وہاں اپنی عزت وناموس کے دفاع کے لیے خواتین کو خود میدان کار زار میں نکلنا پڑا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق کے سُنی اکثریتی شہر الانبار میں دولت اسلامی کا مقابلہ کرنے لیے مقامی خواتین نے"بنات الحق" کے نام سے ایک تنظیم قائم کی ہے۔ یہ تنظیم الانبار کے داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو واگزار کرانے اور داعش کے عسکریت پسندوں کو نکال باہر کرنے کے لیے فوج کے شانہ بہ شانہ لڑ رہی ہے۔ اس تنظیم میں الانبار کے قبائل سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ ساتھ کرد خواتین بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق"بنات الحق" کو الانبار کے قبائل کی جانب سے بھرپور معاونت اور مادی و معنوی مدد بھی حاصل ہے۔ الانبار میں خواتین کی یہ پہلی تنظیم ہے جس نے داعش کےخلاف جنگ میں باضابطہ حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس تنظیم کی خاتون جنگجوؤں کو مقامی قبائلی کمانڈروں نے جنگی تربیت فراہم کی ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ عراق کے الانبار جیسے شہر میں خواتین کا اپنے دفاع کے لیے مسلح گروپ تشکیل دینا فطری بات ہے کیونکہ داعش کے دہشت گردوں نے جس بے دردی کے ساتھ عراق میں مردوں اور بچوں کا قتل عام کیا ہے اس کے ردعمل میں خواتین کا خود ہی اپنے دفاع کے لیے میدان میں نکلنا ایک فطری امر ہے۔ داعش کی دہشت گردی اور انتہا پسندی نے خواتین کو یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں