.

یورپی یونین کی اسرائیل پر پابندیاں کے لیے مجوزہ قرارداد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے اپنے رکن اٹھائیس ممالک میں ایک خفیہ دستاویز کا مسودہ تقسیم کیا ہے جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ اگر اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں ایسے اقدامات جاری رکھتا ہے جن کے نتیجے میں تنازعے کا دوریاستی حل ناممکن ہوجاتا ہے تو پھر اس کے خلاف پابندیاں عاید کردی جائیں۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز نے اپنی اتوار کی اشاعت میں مغربی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ خفیہ دستاویز صرف یورپی یونین کے رکن ممالک کے لیے خاص تھی لیکن بعض یورپی سفارت کاروں نے اس کے بعض مندرجات کو اسرائیل پر افشاء کردیا ہے۔البتہ اسرائیلیوں کو اس دستاویز کا مکمل مسودہ نہیں مل سکا ہے اور یورپی یونین کے تین سفارت کاروں اور دوسینیر اسرائیلی حکام نے اس کی بعض تفصیلات بیان کی ہیں۔

ان حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہارٹز کو بتایا ہے کہ یہ دستاویز ڈنڈے اور گاجر کی حکمت عملی کی نشان دہی کرتی ہے اور اس میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل فلسطین کی خود مختاری کے خلاف مزید اقدامات کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف ڈنڈے اور گاجر کی پالیسی پر عمل کیا جائے۔

ان میں ایک سفارت کار کا کہنا تھا کہ''اس وقت امن عمل منجمد ہے لیکن برسرزمین صورت حال نہیں۔یورپ میں یہودی آبادکاری کی سرگرمی پر بہت زیادہ فرسٹریشن پائی جارہی ہے اور وہ اس پر کوئی رورعایت دینے کو تیار نہیں۔یہ پیپر ان دنوں برسلز میں ہونے والی برین اسٹارمنگ کا حصہ ہے اور اس میں اس بات پر غور کیا جارہا ہے کہ دو ریاستی حل کو زندہ رکھنے کے لیے کیا کیا اقدام کیے جا سکتے ہیں''۔

درایں اثناء ایسے کوئی آثار نہیں پائے جاتے ہیں کہ اسرائیل تنازعے کے دوریاستی حل کو ممکن بنانا چاہتا ہے۔اسرائیل کے انتہا پسند وزیرخارجہ ایویگڈور لائبرمین نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ صہیونی ریاست مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں اپنی تعمیراتی سرگرمی کو کبھی محدود نہیں کرے گی۔

صہیونی ریاست کے لیے بل

اسرائیلی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ ایک بل پیش کررہے ہیں جس کے تحت یہ قانون وضع کیا جائے گا کہ اسرائیل صہیونی عوام کا قومی وطن ہے۔

انھوں نے اسرائیل کو ایک یہودی اور جمہوری ریاست قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ چونکہ اس کی جمہوریت نوعیت پر قانون سازی ہوچکی ہے،اس لیے اس کی صہیونی نوعیت پر بھی قانون سازی کی جانی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ''ان دونوں پہلوؤں کے درمیان توازن ضروری ہے''۔انھوں نے یہ بات فلسطینیوں اور دوسروں کی جانب سے صہیونی ریاست کو تسلیم نہ کرنے کے تناظر میں کہی ہے۔

تاہم ابھی اس بل کا مسودہ تیار نہیں کیا گیا ہے اور یہ ایسے وقت میں سامنے لایا جارہا ہے جب یہود اور عربوں کے درمیان شدید کشیدگی پائی جارہی ہے۔عرب اسرائیل کی کل آبادی کا بیس فی صد ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ بل کے ذریعے انھیں مزید دیوار سے لگا دیا جائے گا۔حزب اختلاف کے ارکان پارلیمان نے اس کی مخالفت کی ہے اوران کا کہنا ہے کہ اس سے عوامی غیظ وغضب میں اضافہ ہوگا۔