.

انسانی حقوق کی پامالیاں، یو این میں ایران و شام کی مذمت

شام نے قرارداد کو 'تعصب' اور ایران نے 'لاحاصل مشق' قراد دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے ایران اور شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے۔ ''العربیہ'' کے مطابق اس سلسلے میں ایک میں اگلے ماہ اسمبلی کے اجلاس میں باضابطہ طور یہ معاملہ پیش کیا جائےگا۔

''العربیہ'' کے مطابق اس سے پہلے اقوام متحدہ کے ایک سو بیس سے زائد ارکان نے شام میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے بارے میں ووٹ کا حق استعمال کیا تو اس قرار داد کے خلاف صرف 13 ارکان نے ووٹ ڈالا اور 47 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

جبکہ ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر 78 ممالک نے قرارداد کی حمایت کی، 35 نے مخالفت کی اور 69 ملک ووٹنگ کے موقع پر غیر حاضر رہے تھے۔

شام کے اقوام متحدہ کے لیے سفیر بشار جعفری نے اپنی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے قرارداد کی مذمت کی اور اس قرار داد کو تعصب اور سیاست پر مبنی قرار دیا۔ بشار جعفری نے کہا '' یہ اس وقت تک شام کے خلاف متحرک رہیں گے جب تک ان کی رگوں میں سعودی تیل کی وجہ سے حرارت ہے۔''

واضح رہے قرارداد میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ شہریوں پر تشدد کے لیے بنائے قید خانوں کی بھی مذمت کی گئی ہے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ شام کی حکومت شہریوں پر حملے اور بمباری بند کرے ۔ کینیڈا کی طرف سے تیار کردہ اور 45 ممالک کی تائید سے سامنے لائی گئی اس قرار داد کے بارے میں ایرانی نمائندے نے کہا '' یہ ایک بے مقصد اور لاحاصل مشق ہے۔''

ایران کے حوالے میں قرارداد میں سزائے موت دینے کے رجحان کی مذمت کی گئی ہے۔ کیونکہ ایران میں گذشتہ 15 ماہ کے دوران کم از کم 850 افراد کو پھاانسی کی سزا دی جا چکی ہے۔ روس اور چین دونوں نے اس قرارداد کی مخالفت کی کہ قرار داد میں ناجائز طور پر ایک ملک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی اس قرارداد میں شام میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

قرار داد میں بشار رجیم کے ان اندھے اختیار کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جن کی وجہ سے انسانی حقوق کی صورت حال خراب ترین سطح کو چھو رہی ہے اور اس وجہ سے فرقہ واریت کی بنیاد پر عسکریت کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

یہ بھی معاملہ اٹھایا گیا ہے کہ شام میں جرائم پیشہ افراد کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور اس وجہ سے مزید حالات بگڑ رہے ہیں۔ نیز بشار رجیم بھاری بارود بمباری کے ذریعے شہریوں پر ہر روز برسا رہی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی بڑی تعداد متاثر ہے۔

قرار داد میں سنی اور شیعہ عسکری گروپوں کو بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار بتایا گیا ہے اور اس سلسلے میں النصرہ فرنٹ، داعش، القاعدہ اور ابو الفضل العباس بریگیڈ کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی اس قرار داد میں اس بری صورت حال سے شہریوں کو بچانے اور ملک اندر بے گھر ہونے والے ساٹھ لاکھ افراد کی مدد کے لیے فوری توجہ اور اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔

خیال رہے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق شام میں اب تک ایک لاکھ اکانوے ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں دس ہزار بچے بھی شامل ہیں۔

ایران میں سزائے موت دینے کے عمل کو قرارداد میں خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہوئے اس کے خلاف سخت تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ قرارداد میں قانونی اور انتظامی حوالے سے ایران میں تبدیلیوں پر زور دیا گیا ہے۔

اس امر کی بھی مذمت کی گئی ہے کہ سنگین الزامات لگانے کے بعد بھی قانون کے تقاضے پورا کرتے ہوئے مقدمات کا ٹرائل نہیں کیا جاتا۔ نہ ہی ملزمان کے وکیلوں اور ان کے خاندانوں کو پوری طرح موقع دیا جاتا ہے۔

مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ایران ، شمالی کوریا اور میانمار کے بارے میں اقوام متحدہ میں ہر سال آواز اٹھائی جاتی ہے۔