.

عراقی قبائل داعش کے خلاف متحرک ہیں: اقوام متحدہ

قبائل کو مسلح کرنا اور تربیت دینا حیدر العبادی کی ترجیح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نئی عراقی حکومت کی طرف سے قبائل اور کردوں کو داعش کے خلاف جنگ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے نمائندے نے سلامتی کونسل کو بتائی ہے۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں مقامی لوگ عسکریت پسندوں کو پسپا ہونے پر مجبور کر رہے ہیں۔

سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم حیدر العبادی نے مقامی گروپوں اور قبائلی جنگجووں وغیرہ کو تربیت، اسلحہ اور تنخواہیں دینے کو ایک اہم ترجیح کے طور پر لیا ہے ۔

اس سے پہلے داعش نے مقامی قبیلے البونمر کے 322 افراد کا قتل عام کیا تھا۔ لیکن اب یہ قبائل حکومت کے ساتھ ہیں تاکہ داعش کو عراق سے نکالا جائے۔

اقوام متحدہ کے نمائندے ملادی نوف نے ایک عسکری گروپ سے ملاقات کی جو داعش کے ساتھ شامل نہیں ہے اور داعش کے خلاف عراقی حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ زید الرعد نے داعش کے خلاف ایک مہم کے لیے اپیل کی ہے تاکہ داعش کے نظریہ کی نفی ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ یہ مہم داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں سے بھی زیادہ موثر ثابت ہوگی۔

واضح رہے ماہ اگست سے امریکا نے داعش کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جبکہ ماہ ستمبر سے امریکی قیادت میں دوسرے بہت سے ممالک بھی داعش مخالف عالمی اتحاد کا حصہ بن چکے ہیں اور فضائی کارروائیوں میں شریک ہیں۔

انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا عراقی حکومت کو انٹر نیشنل کریمنل کورٹ سے داعش کے خلاف رجوع کرنا چاہیے تاکہ داعش کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکے۔

واضح رہے عراق کے نئے وزیر اعظم نے ماہ ستمبر میں ذمہ داری سنبھالی ہے اور پچھلے ہی ہفتے نئی حکومت نے عراقی کردستان کی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے۔ اب عراقی حکومت اور نیم خود مختار کرد حکومت دونوں داعش کے خلاف متحد ہیں۔

عراق میں رواں سال کے دوران کم از کم دس ہزار افراد ہلاک اور بیس ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔ جبکہ انیس لاکھ شہری اپنے گھروں سے دوسری جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔