.

یہودی معبد پر حملہ آور عرب نوجوانوں کے گھر گرانے کا حکم

الجمل فیملی سے تعلق رکھنے والے دونوں نوجوان کزن تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل کے روز مقبوضہ بیت المقدس کے ایک یہودی معبد میں چاقوٶں اور کلہاڑیوں کے وار کر کے پانچ اسرائیلیوں کو ہلاک کرنے والے دو فلسطینی عرب نوجوانوں کے گھر مسمار کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ مشرقی بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے دونوں حملہ آور غسان ابو جمل اور اودے ابو جمل کزن تھے۔

ستائیس سالہ غسان نے دو بچے اور ایک بیوہ چھوڑی ہے۔ وہ شہر کی ایک یہودی آبادی میں کپڑوں کی دکان پر کام کرتا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق غسان کا نہ تو کسی عسکری تنظیم سے تعلق تھا اور نہ ہی اس کے کسی مجرمانہ ریکارڈ کا سراغ مل سکا ہے۔

ان کا اکیس سالہ کزن عدے انٹیرئر ڈیکوریٹر تھا اور اس کا بھی غسان کی طرح نہ تو کوئی مجرمانہ ریکارڈ تھا اور نہ ہی وہ کسی عسکری تنظیم سے تعلق رکھتا تھا۔

اطلاعات کے مطابق واقعے کے بعد حملہ آور عرب نوجوانوں کے گھر کے باہر جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مظاہرہ کرنے والوں نے حملہ آور نوجوانوں کے گھر کے باہر جمع ہونے والے پولیس اہلکاروں پر پتھراو کیا، جنہیں منتشر کرنے کے لئے پولیس نے اعصاب شکن گرینیڈز اور اشک آور گیس کے گولے فائر کئے۔

اہالیاں علاقہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے ابو جمل خاندان کے چودہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہودی معبد حملے میں ہلاک ہونے والے تین یہودی اسرائیل اور امریکا کی دہری شہریت کے حامل تھے جبکہ چوتھا ملہوک برطانوی شہری تھا۔

حملے میں مارے جانے والے انسٹھ سالہ یہودی مذہبی پیشوا 'ربی' موشے ٹورسکائی کا تعلق بااثر یہودی مذہبی پیشواوں کے سلسلے سے تھا۔

آنجہانی ٹورسکائی کے والد ایساڈور ٹورسکائی امریکا کی معروف ہاورڈ یونیورسٹی کے سینٹر فار جیوش اسٹڈیز کے بانی تھے جبکہ ان کے دادا جوزف بی سولو واکیک اپنے دور کے انتہائی بااثر یہودی مبلغ تھے۔