ایرانی جوہری پروگرام، 24 نومبر تک معاہدے کا امکان معدوم

امریکی و برطانوی حکام کو ڈیڈ لائن پوری نہ ہونے کا اندیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی اور برطانوی حکام نے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے مقررہ کردہ ڈیڈ لائن کے مطابق 24 نومبر تک حتمی معاہدہ نہ ہو سکنے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

امریکا میں قومی سلامتی کے مشیر ٹونی بلنکن نے امریکی قانون سازوں کو بتایا ہے کہ یہ مشکل نظر آ رہا ہے کہ حتمی جوہری معاہدہ ڈیڈ لائن ختم ہونے تک ممکن ہو سکے۔

انہوں نے کہا '' ٹھیک اس وقت یہ مشکل لگ رہا ہے کہ جہاں ہم پہنچنا چاہتے ہیں وہاں تک پہنچ سکیں لیکن یہ ناممکن نہیں ہے۔''

واضح رہے ٹونی بلنکن کو صدر اوباما نے امریکا کے نائب وزیر خارجہ کے منصب کے لیے نامزد کیا ہے اور وہ اسی حوالے سے کانگریس کے ارکان کے سامنے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔

ایران کے ساتھ دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے اس حساس موضوع پر مذاکرات کا آغاز پچھلے سال ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر 24 نومبر 2013 کو ایک ابتدائی جوہری معاہدہ طے پا گیا تھا۔ اس ابتدائی معاہدے کے نتیجے میں ایران پر عاید پابندیوں میں قدرے نرمی کر دی گئی تھی ۔

بعدازاں حتمی معاہدے کے لیے 24 نومبر 2014 کی تاریخ طے کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ مذاکراتی عمل میں امریکا ، روس، چین ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں۔

بلنکن نے کہا '' معاہدہ ہونے کی ایک ہی صورت ہو گی کہ ایران ہمارے پارٹنرز کو قائل کر لے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔''

برطانیہ کے فارن سیکرٹری فلپ ہیمونڈ نے بھی کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے زیادہ پر امید نہیں ہیں کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان 24 نومبر تک معاہدہ ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا '' میں توقع نہیں رکھتا کہ سب کچھ پیر کے روز تک ممکن ہو جائے گا۔'' لیکن برطانوی ذمہ دار نے کہا اگر ہم نے خاطر خواہ پیش رفت کر لی تویہ معاہدے کے لیے مفید ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں