.

داعش کی فرانس و دیگر یورپی ملکوں میں کارروائیوں کی اپیل

یہ انکشاف برطانوی اخبار گارجین کی رپورٹ میں کیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش سے وابستہ فرانسیسی جنگجووں نے اپنے ساتھیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ملک فرانس میں کارروائیاں کریں۔ اس اپیل پر مبنی انکشاف ''گارجین'' کی ایک وڈیو رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

برطانوی اخبار نے اس اپیل کو داعش کے میڈیا کے شعبے الحیات میڈیا کی طرف سے جاری کردہ بتایا ہے۔ وڈیو میں دکھایا گیا ہے بغیر نقاب اوڑھے عسکریت پسند ایک ایسے علاقے میں موجود ہیں جہاں لکڑیاں ہیں اور وہ آگ کے الاو کے اردگرد بیٹھے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس آگ میں وہ شاید فرانسیسی پاسپورٹ جلا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک عسکریت پسند جس نے نقاب پہنا ہوا ہے کہہ رہا ہے '' ہم تمہیں اور تمہارے پاسپورٹ کو نہیں مانتے اگر تم یہاں آو گے تو ہم تمہارے ساتھ جنگ کریں گے۔''

واضح رہے فرانس داعش کے خلاف عالمی اتحاد کا رکن ہے۔ جبکہ اس کے جنگی طیارے عراق میں داعش کے خلاف کارروائیوں میں شریک ہیں۔

فرانسیسی وزیر دفاع نے کچھ عرصہ قبل ہی بتایا ہے کہ فرانس اپنے مزید چھ جنگی طیارے داعش کے خلاف جنگ میں جھونک رہا ہے۔ ان کے بقول اس وقت بارہ فرانسیسی طیارے بروئے کار ہیں۔

دوسری جانب فرانس کے وزیر اعظم مینول والز کے مطابق ایک ہزار کے قریب فرانسیسی شہری داعش کا حصہ بن چکے ہیں، جبکہ پچاس فرانسیسی شہری داعش کی طرف سے لڑتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں۔

فرانس کے جنگجو داعش کی حالیہ ان وڈیوز میں بھی نظر آئے ہیں جن میں امریکی اور شامی فوجیوں کے سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ فرانس کے شہری بھی گلا کاٹنے والے داعش کے اس دستے میں شامل ہیں۔

''گارجین ''کے مطابق ایک جنگجو جس نے اپنا نام ابو اسامہ فرانسیسی ظاہر کیا ہے فرانس کے مسلمانوں کو کوستے ہوئے کہہ رہا ہے کہ وہ دولت اسلامیہ کی طرف ہجرت کیوں نہیں کر رہے ہیں۔

ایک اور جنگجو جس نے اپنا نام ابو مریم فرانسیسی بتایا ہے کہہ رہا ہے '' مجاہدین اسلام کے دشمنوں کے سر کاٹنے میں ججھک کا شکار نہیں ہوں گے۔''

ابو سلمان نامی فرانسیسی شہری جنگجو نے کہا'' جو داعش میں شامل ہونے کے لیے ملک نہیں چھوڑ سکتا وہ فرانس کے اندر ہی کارروائیاں شروع کر دے، انہیں خوفزدہ کر دو کہ انہیں راتوں کو نیند نہ آئے۔''

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش نے اسی طرح کی مزید وڈیوز بھی جاری کی ہیں جن میں آسٹریلیا اور یورپ میں کارروائیاں کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس رپورٹ سے لگتا ہے کہ داعش نے مسلم دنیا کو مزید ہدف بنائے رکھنےکے بجائے امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی طے کی ہے۔