.

شام: امریکی حملے میں تنظیم 'خراسان' کا اسلحہ ڈپو تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فضائیہ نے شمال مغربی شام میں القاعدہ کی مقرب ایک شدت پسند جہادی تنظیم"خراسان" کےمرکزپر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں اسلحہ اور دیگر سامان کا گودام مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے بدھ کے روز شمال مغربی شام میں تنظیم خراسان کے ایک مرکز پر بمباری کی جس کے نتیجے میں ایک گودام مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ تاہم اس حملے کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

خیال رہے کہ خراسان گروپ القاعدہ کے زیر اثر ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو مبینہ طور پر امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے مفادات پر حملوں میں‌ ملوث بتائی جاتی ہے۔ امریکا نے شام میں دولت اسلامی"داعش" کے خلاف حملوں میں اس تنظیم کے مراکز پر بمباری بھی اپنے اہداف میں شامل کر رکھی ہے۔ تنظیم کے شام میں مرکز پر امریکی فضائیہ نے پہلا حملہ 28 ستمبر کو کیا، اس کے بعد دو مزید حملے بھی کیے گئے تھے۔ رواں ماہ تنظیم خراسان کے مرکز پر کیے گئے دو حملوں میں تنظیم سے وابستہ ایک فرانسیسی اسلحہ ساز ڈیوڈ داود ڈروگن بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

تنظیم خراسان کوئی زیادہ مشہور گروپ نہیں تاہم امریکی خفیہ داروں کا دعویٰ ہے کہ اس گروپ میں افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو شامل ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ شام میں سرگرم القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم النصرہ فرنٹ کی طرح یہ بھی القاعدہ ہی کا ایک گروپ ہے۔

امریکی سینٹرل کمان کی جانب سے جاری بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ بدھ کے روز امریکا اور اس کے اتحادیوں نے شام میں ‌دولت اسلامی"داعش" کے ٹھکانوں پر بھی پانچ حملے کیے۔ بمباری میں جنوب مشرقی شہر حسکہ میں داعش کا ایک آئل ڈپو بھی تباہ کر دیا گیا۔